آیۃ القران

وَ قَالَ الَّذِیْنَ كَفَرُوْا لِرُسُلِهِمْ لَنُخْرِجَنَّكُمْ مِّنْ اَرْضِنَاۤ اَوْ لَتَعُوْدُنَّ فِیْ مِلَّتِنَا فَاَوْحٰۤى اِلَیْهِمْ رَبُّهُمْ لَنُهْلِكَنَّ الظّٰلِمِیْنَۙ(۱۳)وَ لَنُسْكِنَنَّكُمُ الْاَرْضَ مِنْۢ بَعْدِهِمْ ذٰلِكَ لِمَنْ خَافَ مَقَامِیْ وَ خَافَ وَعِیْدِ(۱۴)(سورۃ ابراہیم)
ترجمہ : اور جن لوگوں نے کفر اپنا لیا تھا، انہوں نے اپنے پیغمبروں سے کہا کہ : ہم تمہیں اپنی سرزمین سے نکال کر رہیں گے، ورنہ تمہیں ہمارے دین میں واپس آنا پڑے گا۔ چنانچہ ان کے پروردگار نے ان پر وحی بھیجی کہ : یقین رکھو، ہم ان ظالموں کو ہلاک کردیں گے۔(۱۳) اور ان کے بعد یقینا تمہیں زمین میں بسائیں گے، یہ ہے ہر اس شخص کا صلہ جو میرے سامنے کھڑا ہونے کا خوف رکھتا اور میری وعید سے ڈرتا ہے۔(۱۴)(آسان ترجمۃ القران)

ملا نصیر الدین کا مشوره

ملا نصیر الدین کا مشوره

ایک دن امیر تیمور لنگ در بار لگائے ہوا تھا۔ درباری مؤدبانہ طریق سے اپنی جگہوں پر کھڑے ہوئے تھے۔ تیمور نے خلفائے بغداد کا حوالہ دیتے ہوئے کہا: ” ان کے القاب بڑے پر شکوہ ہوتے ہیں۔ مثلاً مستقر بالله، واثق بالله، معتصم باللہ اور متوکل باللہ وغیرہ۔ میں چاہتا ہوں کہ میں بھی اس قسم کا کوئی لقب اختیار کروں ۔ درباریوں نے اپنی اپنی سمجھ کے مطابق مختلف القابات تجویز کئے ..... جب ملا نصیر الدین کی باری آئی تو اس نے جان کی امان پاتے ہوئے عرض کیا: ” ناچیز کے خیال میں حضور کا لقب نعوذ باللہ بہت موزوں رہے گا۔“ ( بحوالہ ماہنامہ ”ہما“ نئی دہلی : جنوری ۱۹۹۵ء ص ۷۷ )

Image 1

Naats