محقق مسئلہ

عبادتوں میں ریاء ( دکھلاوا ) حرام ہے

نصوص قطعیہ سے ثابت ہے کہ عبادتوں میں اخلاص واجب ہے اور ریاء و دکھلاوا حرام ہے، اپنی عبادتوں میں اللہ کی رضا کا مقصود ہونا اخلاص ہے کسی اور چیز کا مقصود ہو نا ریاء ہے، آپ ﷺ نے ریاء کو شرک اصغر فرمایا ہے، اگر کوئی شخص اس لئے نماز پڑھے کہ لوگ ترک صلوۃ کرتے ہوئے دیکھیں گے تو کیا کہیں گے ، یا کوئی طالب علم نماز چھوڑنے پر سزا کے ڈر سے نماز پڑھے تو یہ بھی ریاء میں داخل ہے ، اس طرح سے پڑھی جانیوالی نماز صحیح تو ہو جائے گی مگر ثواب سے خالی ہوگی ، کیوں کہ صحت ثواب کو اور ثواب صحت کو مستلزم نہیں ہے صحت شرائط و ارکان سے متعلق ہے اور ثواب اخلاص سے ، لہٰذا جب کوئی عبادت کی جارہی ہو تو اخلاص کے ساتھ کی جائے تا کہ وہ صحیح بھی ہو جائے اور آخرت میں ثواب بھی حاصل ہو اور یہی عبادت کی غرض ہے۔(اہم مسائل/ج:۲/ص:۲۰۷)

‏مگر ہم "حبل اللہ" کو نہیں تھامیں گے
مضامین

‏مگر ہم "حبل اللہ" کو نہیں تھامیں گے

*کتنے مرد حضرات ہیں جن کو بالغ ہوتے ہی "سورۃ المائدہ" کی تفسیر پڑھائی گئی اور کتنی عورتیں ہیں جن کو بالغ ہوتے ہی "سورۃ النور"کی تفسیر پڑھائی گئی۔* ‏جانتا ہوں ،بہت کم ہیں۔ ‏مگر دوسری طرف دیکھیں..! ‏کتنے مرد ہیں جنہوں نے والدین سے بالغ ہونے کے بعد سنا کہ تمہاری کوئی ایسی ویسی بات نہ سنوں اور کت...

تازہ ترین خبریں

تمام خبریں