محقق مسئلہ

غلطی سے زکوۃ زیادہ دے دینا

اگر کسی شخص کے ذمہ زکوۃ کی ادائیگی کی مقدار تھوڑی بنتی ہو، اور اس نے غلطی سے زیادہ زکوۃ دیدی ، تو اس کے لئے یہ گنجائش ہے کہ وہ اس زائد مقدار کو آئندہ سال کی زکوۃ میں شمار کرلے، اور اگر اس زائد مقدار کو نفلی صدقہ تصور کرے، اور آئندہ سال کی زکوۃ اپنے وقت پر الگ حساب لگا کر ادا کرے، تو بھی حرج نہیں، بلکہ یہ زیادہ فضیلت کا باعث ہے۔(اہم مسائل/ج:۳/ص:۱۳۸)

یہ سب دین کے شعبے ہیں
مضامین

یہ سب دین کے شعبے ہیں

لیسٹر برطانیہ میں علماء کرام کی محفل میں ایک دفعہ حضرت مولانا شاہ ابرار الحق ہردوئی صاحب رح نے فرمایا کہ فرض کرو انڈیا کے کسی گاؤں میں کسی بھاری جسم والے شخص کا انتقال ہوگیا جون جولائی کی گرمی ہو قبرستان کئی کلومیٹر کے فاصلے پر ہو اور جنازہ اٹھانے والے صرف چار آدمی ہوں راستے میں ایک مسافر شخص ملا ا...

تازہ ترین خبریں

تمام خبریں