قرآن کے بوسیدہ اوراق کو کیا کیا جائے؟
قرآن پاک جب بوسیدہ ہونے کی وجہ سے ناقابل انتفاع ہو جائے تو فقہاء حنفیہ کی تصریح کے مطابق سب سے بہتر طریقہ یہ ہے کہ لحد بنا کر اس میں دفن کر دیا جائے(رد المحتار ج ۴ ص : ۲۷۱) اگر چہ ماء جاری میں ڈال دینے کی بھی اجازت ہے لیکن یہ خلاف اولیٰ ہے۔ اسی طرح جلانا بھی ثابت ہے جیسا کہ علامہ سیوطی علیہ الرحمہ نے نقل کیا ہے۔ لیکن حضرات حنفیہ کے یہاں یہ ممنوع ہے جیسا کہ علامہ شامی نے تصریح کی ہے۔
(حبیب الفتاویٰ/ ج:۷/ ص: ۵۲)