محقق مسئلہ

تہجد کا وقت؟ تہجد کا وقت وہی ہے جو عشاء کا وقت ہے، عشاء کی نماز کے بعد سے فجر کا وقت شروع ہونے تک کبھی بھی نماز تہجد پڑھی جاسکتی ہے، ہیثمی کی روایت ہے: ” عشاء کے بعد جو بھی نماز پڑھی جائے ، وہ قیام لیل یعنی تہجد ہے، فقہاء نے معمولات نبوی کو سامنے رکھتے ہوئے لکھا ہے کہ اگر ایک تہائی شب تہجد میں گزارنا چاہتا ہو تو رات کا درمیانی تہائی افضل ہے اور نصف شب تہجد پڑھنا چاہتا ہو تو آخری نصف کو تہجد میں گزار نا افضل ہے (کتاب الفتاویٰ/ج:۲/ص:۱۱۸)

حضرت تھانوی رحمۃ اللہ علیہ کے رجوع کی چند مثالیں

حضرت تھانوی رحمۃ اللہ علیہ کے رجوع کی چند مثالیں

بہشتی زیور اور تعلیم الدین کے بعض مقامات کی اصلاح: (۱) بہشتی زیور میں عشاء کے بعد چار سنتیں لکھ دی ہیں، صحیح یہ ہے کہ دو سنت ہیں اور دو نفل ۔ (۲) بہشتی زیور میں ایام بیض ۱۲، ۱۳، ۱۴ تاریخوں کو لکھ دیا ہے، صحیح ۱۳، ۱۴ ، ۱۵ ہیں۔ (۳) تعلیم الدین اور بہشتی زیور میں تیجے، چالیسویں وغیرہ کے بدعت ہونے کے ذکر میں یہ لفظ لکھا گیا ہے "ضروری سمجھ کر کرنا" اس سے شبہ ہو سکتا ہے کہ شاید غیر ضروری سمجھ کر کرنا جائز ہو یہ قید واقعی تھی ، احترازی نہ تھی، حکم یہ ہے کہ خواہ کسی طرح سے کرے بدعت ہے۔ (۴) تعلیم الدین میں قبروں پر چراغ جلانے کے بارے میں یہ لفظ لکھا گیا ہے: ” کثرت سے چراغ جلانا “ اس میں بھی مثل مقام سوم کے سمجھنا چاہیے، حکم یہ ہے کہ ایک چراغ رکھنا بھی بدعت ہے۔ احباب سے دعا کی استدعا ہے کہ حق تعالیٰ میری خطا و عمد کو معاف فرمائے اور میری تقریرات و تحریرات کو اضلال کا سبب نہ بنائیں۔ (اشرف السوانح : ۱۳۵/۳، بوادر النوادر : ۴۲۸)

Image 1

Naats