محقق مسئلہ

روزہ کی حالت میں قے کا حکم؟ روزہ کی حالت میں اگر خود بخو دقے ہو جائے تو اس سے روزہ نہیں ٹوٹتا، چاہے منہ بھر ہو یا اس سے کم، اور اگر جان بوجھ کر روزہ یاد ہونے کی حالت میں مثلاً انگلی ڈال کر قے کی تو منہ بھر کرتے کرنے کی صورت میں بالاتفاق روزہ ٹوٹ جائے گا ، اور اگر منہ بھر سے کم ہے تو اس بارے میں اختلاف ہے، حضرت امام محمد سے ظاہر الروایہ میں مروی یہ ہے کہ روزہ ٹوٹ جائے گا ، جب کہ حضرت امام ابو یوسف کا قول یہ ہے کہ روزہ نہیں ٹوٹے گا، بعض فقہاء نے امام ابو یوسف کے قول کو ترجیح دی ہے۔ لیکن امام محمد کے قول میں احتیاط زیادہ ہے۔ (کتاب المسائل ۱۵۵/۲ - ۱۶۳)(کتاب النوازل/ج:۶/ص:۳۸۹)

پیدل چلتے ہوئے مطالعہ

پیدل چلتے ہوئے مطالعہ

اسلاف کے ہاں شوقِ مطالعہ اور اہمیتِ وقت کا یہ عالم تھا کہ پیدل چلتے ہوئے بھی کتاب کا مطالعہ جاری رہتا۔ ابن الآبنوسی کہتے ہیں کہ علامہ خطیب بغدادیؒ پیدل چل رہے ہوتے تو ہاتھ میں کتاب لیے اس کا مطالعہ کر رہے ہوتے۔ (سیر اعلام النبلاء، ١٨: ٢٨١) نحو کے ایک بے بدل عالم علامہ احمد بن یحیٰ جو ثعلب کے نام سے مشہور ہیں، ان کو تو یہ شوق بہت ہی مہنگا پڑا۔ یہ مطالعے کے رسیا تھے اور ثقلِ سماعت کا شکار تھے، اس لیے اونچا سنائی دیتا تھا۔ ایک مرتبہ جمعے کے دن عصر پڑھ کر جامع مسجد سے نکلے تو حسبِ معمول کتاب کھولی اور پیدل چلتے ہوئے پڑھنے میں مگن ہو گئے۔ راستے میں گھوڑے نے دولتی جھاڑ دی؛ پاس ہی ایک گہرا کھڈا تھا، یہ اس میں جا گرے۔ ان کو دماغ پہ چوٹ آئی؛ اسی حال میں گھر لے جایا گیا مگر اگلے روز یہ عاشق کتب انتقال کر گئے! (ابن خلکان، وفیات الاعیان، ١: ١٠٤) [انتخاب و ترجمانی: طاہر اسلام عسکری]

Image 1

Naats