محقق مسئلہ

جانور ذبح کرنے کے چند طریقوں کا شرعی حکم : (۱) ذبح شرعی میں جانور کی چار رگوں : حلقوم ( سانس کی نلی، جس کو نرخرہ کہتے ہیں ) مری (نرخرے سے معدے تک کھانے پینے کی نلی ) اور ودجان ( خون کی دو نلی ، جو نرخرے کے دائیں بائیں ہوتی ہیں، جس کو شہ رگ کہتے ہیں ) میں سے کم از کم تین رگوں کا کٹنا ضروری ہے، تین رگوں سے کم کٹنے کی صورت میں ذبح کیا ہوا جانور حلال نہیں ہوگا۔ (۲) مکمل روح نکلنے کے بعد جب جانور ٹھنڈا ہو جائے ، اُس وقت اُس کی گردن الگ کرنی چاہیے، ٹھنڈا ہونے سے پہلے گردن کو الگ کرنا؛ جس سے جانور کو تکلیف پہنچے مكروہ ہے۔ (۳) ذبح کرنے کے بعد جانور ٹھنڈا ہونے سے پہلے، گلے کی ہڈی کی رگ کو چھری کی نوک سے کاٹنا، جس سے جانور کو تکلیف پہنچے مکروہ ہے۔ (کتاب: منتخب فتویٰ دار العلوم دیوبند/ص: ۴۵۲)

حضرت تھانوی رحمۃ اللہ علیہ کے رجوع کی چند مثالیں

حضرت تھانوی رحمۃ اللہ علیہ کے رجوع کی چند مثالیں

بہشتی زیور اور تعلیم الدین کے بعض مقامات کی اصلاح: (۱) بہشتی زیور میں عشاء کے بعد چار سنتیں لکھ دی ہیں، صحیح یہ ہے کہ دو سنت ہیں اور دو نفل ۔ (۲) بہشتی زیور میں ایام بیض ۱۲، ۱۳، ۱۴ تاریخوں کو لکھ دیا ہے، صحیح ۱۳، ۱۴ ، ۱۵ ہیں۔ (۳) تعلیم الدین اور بہشتی زیور میں تیجے، چالیسویں وغیرہ کے بدعت ہونے کے ذکر میں یہ لفظ لکھا گیا ہے "ضروری سمجھ کر کرنا" اس سے شبہ ہو سکتا ہے کہ شاید غیر ضروری سمجھ کر کرنا جائز ہو یہ قید واقعی تھی ، احترازی نہ تھی، حکم یہ ہے کہ خواہ کسی طرح سے کرے بدعت ہے۔ (۴) تعلیم الدین میں قبروں پر چراغ جلانے کے بارے میں یہ لفظ لکھا گیا ہے: ” کثرت سے چراغ جلانا “ اس میں بھی مثل مقام سوم کے سمجھنا چاہیے، حکم یہ ہے کہ ایک چراغ رکھنا بھی بدعت ہے۔ احباب سے دعا کی استدعا ہے کہ حق تعالیٰ میری خطا و عمد کو معاف فرمائے اور میری تقریرات و تحریرات کو اضلال کا سبب نہ بنائیں۔ (اشرف السوانح : ۱۳۵/۳، بوادر النوادر : ۴۲۸)

Image 1

Naats

Recent Articles

مولوی...

admin | 15 June, 2026

باپ کا آخری خط

admin | 4 June, 2026