محقق مسئلہ

جانور ذبح کرنے کے چند طریقوں کا شرعی حکم : (۱) ذبح شرعی میں جانور کی چار رگوں : حلقوم ( سانس کی نلی، جس کو نرخرہ کہتے ہیں ) مری (نرخرے سے معدے تک کھانے پینے کی نلی ) اور ودجان ( خون کی دو نلی ، جو نرخرے کے دائیں بائیں ہوتی ہیں، جس کو شہ رگ کہتے ہیں ) میں سے کم از کم تین رگوں کا کٹنا ضروری ہے، تین رگوں سے کم کٹنے کی صورت میں ذبح کیا ہوا جانور حلال نہیں ہوگا۔ (۲) مکمل روح نکلنے کے بعد جب جانور ٹھنڈا ہو جائے ، اُس وقت اُس کی گردن الگ کرنی چاہیے، ٹھنڈا ہونے سے پہلے گردن کو الگ کرنا؛ جس سے جانور کو تکلیف پہنچے مكروہ ہے۔ (۳) ذبح کرنے کے بعد جانور ٹھنڈا ہونے سے پہلے، گلے کی ہڈی کی رگ کو چھری کی نوک سے کاٹنا، جس سے جانور کو تکلیف پہنچے مکروہ ہے۔ (کتاب: منتخب فتویٰ دار العلوم دیوبند/ص: ۴۵۲)

مسلمان نسل پرست ہوتے ہیں؟

مسلمان نسل پرست ہوتے ہیں؟

مشہور مناظر اسلام امام ابوبکر باقلانی ابوبکر باقلانی رحمة اللہ علیہ سے ایک عیسائی راہب نے ملاقات کی، دوران گفتگو عیسائی راہب نے کہا کہ تم مسلمان نسل پرست ہوتے ہو؟ امام ابوبکر باقلانی نے پوچھا: وہ کیسے؟ عیسائی راہب : تمہارے یہاں مسلمان مرد کسی عیسائی عورت یا یہودی - عورت سے نکاح کرنا چاہے تو وہ تو جائز ہے، لیکن اگر کوئی عیسائی یا یہودی مرد تمہاری مسلم عورتوں سے نکاح کرنا چاہے تو وہ جائز نہیں ہے۔ یہی تو تمہاری نسل پرستی ہے۔ امام ابو بکر باقلانی نے فرمایا : ہمارے یہاں یہودی عورت سے نکاح کرنا اس وجہ سے جائز ہے کہ ہم یہودیوں کے نبی حضرت موسیٰ علیہ السلام پر ایمان - رکھتے ہیں۔ اسی طرح ہمارے یہاں عیسائی عورت سے نکاح کرنا اس وجہ سے کا جائز ہے کہ ہم عیسائیوں کے نبی حضرت عیسی علیہ السلام پر بھی ایمان رکھتے۔ راہب صاحب ! تم لوگ بھی جب ہمارے نبی حضرت محمد مصطفی صلی اللہ علیہ وسلم پر ایمان لے آؤ گے تو تمہارے لیے بھی ہماری مسلمان عورتوں سے نکاح کرنا جائز ہو جائے گا۔ یہ سن کر راہب ہکا بکا رہ گیا۔ (کتاب : ماہنامہ دعوت دین کراچی اکتوبر۔ صفحہ : ۲۵۔ ناقل : اسلامک ٹیوب پرو ایپ) ♥️ 💐   📩 📤 *_ˡᶦᵏᵉ ᶠᵒˡˡᵒʷ ˢᵃᵛᵉ ˢʰᵃʳᵉ_*

Image 1

Naats