محقق مسئلہ

جانور ذبح کرنے کے چند طریقوں کا شرعی حکم :

(۱) ذبح شرعی میں جانور کی چار رگوں : حلقوم ( سانس کی نلی، جس کو نرخرہ کہتے ہیں ) مری (نرخرے سے معدے تک کھانے پینے کی نلی ) اور ودجان ( خون کی دو نلی ، جو نرخرے کے دائیں بائیں ہوتی ہیں، جس کو شہ رگ کہتے ہیں ) میں سے کم از کم تین رگوں کا کٹنا ضروری ہے، تین رگوں سے کم کٹنے کی صورت میں ذبح کیا ہوا جانور حلال نہیں ہوگا۔

(۲) مکمل روح نکلنے کے بعد جب جانور ٹھنڈا ہو جائے ، اُس وقت اُس کی گردن الگ کرنی چاہیے، ٹھنڈا ہونے سے پہلے گردن کو الگ کرنا؛ جس سے جانور کو تکلیف پہنچے مكروہ ہے۔

(۳) ذبح کرنے کے بعد جانور ٹھنڈا ہونے سے پہلے، گلے کی ہڈی کی رگ کو چھری کی نوک سے کاٹنا، جس سے جانور کو تکلیف پہنچے مکروہ ہے۔

(کتاب: منتخب فتویٰ دار العلوم دیوبند/ص: ۴۵۲)

سچ کہو اور باقی رہو
مضامین

سچ کہو اور باقی رہو

ایک بار ایک بادشاہ جوانوں کے لنگر خانے گیا ، صفائی ستھرائی چیک کی درست تھی، پھر اس نے پوچھا کہ جوانوں کے لیے کیا پکایا ہے ؟جواب ملا بتاؤں یعنی بینگن ۔بادشاہ سخت ناراض ہوا کہ جوانوں کے لیے اتنا گھٹیا کھانا کیوں پکایا گیا ہے ؟اس کے مشیر نے بینگن کی بُرائی میں زمین آسمان ایک کر دیے ، بہر کیف لنگر کما...

تازہ ترین خبریں

تمام خبریں