غلام کا آقا کو حکیمانہ طمانچہ

جنگ اسکندریہ میں رومی ایک قلعے میں بند تھے اور مسلمانوں نے اس قلعے کا محاصرہ کر رکھا تھا۔ ایک روز رومی میدان میں نکلے اور سپہ سالار حضرت عمرو بن العاص رضی اللہ عنہ چند سوار لے کر ان کے مقابل ہوئے ، گھمسان کی لڑائی ہوئی۔ مسلمان رومیوں کو دباتے ہوئے برابر قلعے کی طرف چلے گئے اور رومیوں کے ہمراہ قلعہ کے اندر داخل ہو گئے ۔ حضرت عمرو بن العاص رضی اللہ عنہ ہر ایک لڑائی میں سب سے آگے ہوا کرتے تھے۔ اس موقعے پر بھی وہ سب سے آگے تھے۔ رومیوں نے مسلمانوں کو دروازے میں دیکھا تو سخت گھبرائے اور چار اطراف سے سپاہیوں کے گروہ کے گروہ دروازے پر اپنے ہمراہیوں کی پشت پر آگئے اور پھر قلعے کا دروازہ ایک دم بند کر دیا۔ اس اثناء میں حضرت عمرو بن العاص رضی اللہ عنہ مسلمہ بن مخلد اور اپنے غلام دردان کے ساتھ قلعہ کے اندر ہی رہ گئے۔ رومی انہیں گرفتار کر کے اپنے اعلی افسر کے پاس لے گئے۔ رومی افسر نے ان قیدیوں کو معمولی سپاہی سمجھا۔ کیونکہ حضرت عمر و بن العاص رضی اللہ عنہ نے کوئی جرنیلی وردی نہیں پہنی ہوئی تھی بلکہ ان کا لباس بالکل اپنے ہمراہی اور غلام کا سا سادہ تھا۔ اس لیے رومی افسر نے بڑی حقارت سے انہیں مخاطب کر کے کہا: تم بھوکے ننگے اور جاہل عربوں نے ان ممالک میں فتنہ برپا کر رکھا ہے۔“ حضرت عمرو بن العاص رضی اللہ عنہ نے نہایت بیباکانہ طور پر جواب دیا: ”ہم فتنہ پھیلانے نہیں آئے۔ بلکہ ہم ان اقوام کو پستی سے نکال کر ترقی و خوشحالی کے بام پر پہنچانے آئے ہیں۔ ہم اسلام کی برکتیں ساتھ لائے ہیں جو ہم ہر ایک قوم کے سامنے پیش کرتے ہیں۔ اگر تم اس لازوال دولت سے محروم رہنا چاہتے ہوتو ہم تمہیں اپنی حفاظت میں لے کر اس ملک کو دار الامان بنادیں گے۔“ رومی افسر یہ دلیرانہ جواب سن کر اپنے ماتحتوں کو رومی زبان میں کہنے لگا: یہ شخص عربی لشکر کا سردار معلوم ہوتا ہے۔ بہتر ہے کہ ہم اسے قتل کر دیں تا کہ مسلمانوں پر ہماری دہشت بیٹھ جائے۔“ عمرو بن العاص رضی اللہ عنہ کا غلام دردان رومی زبان سمجھتا تھا۔ اس نے اپنے آقا کو خطرے میں دیکھا تو حضرت عمرو بن العاص رضی اللہ عنہ کے منہ پر زور سے طمانچہ مارا اور کہا: بے ادب گستاخ کس نے تمہیں اختیار دیا ہے کہ اہل عرب کی طرف سے ایسے کلمات دو افسروں اور حاکموں کے سامنے کہو۔ چپ رہو۔ یہ تمہارا کام نہیں ۔“ حضرت عمرو بن العاص رضی اللہ عنہ خاموش ہو گئے اور مسلمہ بن مخلد نے کہا: بے شک ہمیں ایسی کوئی بات کہنے کا حق نہیں اور اگر آپ اپنے چند اعلی افسر اہل عرب کے افسروں کے پاس بھیجیں تو ممکن ہے کہ وہ سب مل کر ایسی شرائط باہم طے کر لیں جن پر ہم میں اور آپ میں صلح ہو جائے کیوں کہ ہمیں اچھی طرح معلوم ہے کہ عرب سردار جنگ کی نسبت صلح کو زیادہ پسند کرتے ہیں۔“ اب رومی افسر سمجھا حضرت عمر و بن العاص رضی اللہ عنہ کوئی بڑے آدمی نہیں ، عام سے سپاہی ہیں ورنہ انہیں طمانچہ کیوں پڑتا ۔ وہ اہل عرب کی شدت محاصرہ سے تنگ آچکا تھا۔ اس بات سے بہت خوش ہوا اور کہا: ”اچھا ہم تمہیں چھوڑ دیتے ہیں، تم جا کر اپنے افسروں سے کہو کہ وہ صلح کرنا چاہیں تو ہم بالکل تیار ہیں ۔ مسلمہ بن مخلد نے رومی افسر کا شکریہ ادا کیا اور رومی سپاہی انہیں قلعے کے باہر چھوڑ آئے۔ ادھر اسلامی لشکر میں حضرت عمرو بن العاص رضی اللہ عنہ اور مسلمہ کی گرفتاری کے باعث بڑی پریشانی تھی۔ مگر جونہی انہوں نے اپنے سردار کو صحیح و سالم آتے دیکھا تو مارے خوشی کے اللہ اکبر کے نعروں سے آسمان سر پر اٹھا لیا۔ رومیوں کے کانوں میں یہ خوشی کی آواز پڑی تو وہ بہت پریشان ہوئے۔ غلام نے آقا کو جو طمانچہ مارا تھا، اس کی حکمت اب ان کی سمجھ میں آئی۔ __________📝📝📝__________ کتاب : حکمت و نصیحت کے حیرت انگیز واقعات۔ صفحہ نمبر: ۸۳-۸۴ مصنف : محمد اسحق ملتانی۔ انتخاب : اسلامک ٹیوب پرو ایپ

ارے بھائی!

اگر آپ ہزاروں کتابیں، نعتیں، تصاویر، ویڈیوز، اخبار، مضامین، قبلہ نما، اوقات نماز، اسلامک گھڑی اور بہت کچھ آسانی کے ساتھ حاصل کرنا چاہتے ہیں تو بس ہمارے Islamic Tube ایپ کو پلے سٹور سے انسٹال کرو، اور بالکل مفت اور آسانی کے ساتھ اسلامک مواد حاصل کرو

ڈاؤن لوڈ کریں
Image 1

دیوار پر والد کے ہاتھ کے نشان۔

دیوار پر والد کے ہاتھ کے نشان۔

ابا جی بوڑھے ہو گئے تھے اور چلتے چلتے دیوار کا سہارا لیتے تھے۔ نتیجتاً دیواروں کا رنگ خراب ہونے لگ گیا، جہاں بھی وہ چھوتے تھے وہاں دیواروں پر ان کی انگلیوں کے نشانات چھپ جاتے تھے۔ میری بیوی کو جب پتہ چلا تو وہ اکثر گندی نظر آنے والی دیواروں کے بارے میں مجھ سے شکایت کرتی۔ ایک دن سر میں درد ہو رہا تھا تو *ابا جی نے سر پر تیل کی مالش کی۔ تو چلتے ہوئے دیواروں پر تیل کے داغ بن گئے ۔ یہ دیکھ کر میری بیوی چیخ اٹھی۔ اور میں نے بھی غصے میں اپنے والد کو ڈانٹ دیا اور ان سے بدتمیزی سے بات کی، انہیں مشورہ دیا کہ چلتے وقت دیواروں کو ہاتھ نہ لگائیں۔ وہ بہت غمگین نظر آئے ۔ *مجھے اپنے رویے پر شرمندگی بھی محسوس ہوئی مگر ان سے کچھ نہ کہا۔ ابا جی نے چلتے ہوئے دیوار کو پکڑنا چھوڑ دیا۔ اور ایک دن وہ گر پڑے اور بستر سے جا لگے جو ان کے لئے بستر مرگ بن گیا اور کچھ ہی دنوں میں ہم سے رخصت ہو گئے۔ میں نے اپنے دل میں احساس جرم محسوس کیا اور میں ان کے تاثرات کو کبھی فراموش نہیں کر سکتا تھا اور اس کے فوراً بعد اپنے آپ کو ان کی موت کے لئے خود کو معاف نہیں کر پاتا ہوں۔ کچھ دیر بعد، ہم اپنے گھر کو پینٹ کروانا چاہتے تھے۔ جب پینٹر آئے تو میرا بیٹا، جو اپنے دادا سے پیار کرتا تھا، نے مصوروں کو دادا کے انگلیوں کے نشانات صاف کرنے اور ان علاقوں کو پینٹ کرنے کی اجازت نہیں دی۔ پینٹر بہت اچھے اور جدت پسند تھے۔ انہوں نے اسے یقین دلایا کہ وہ میرے والد کے فنگر پرنٹس/ ہینڈ پرنٹس کو نہیں ہٹائیں گے، بلکہ ان نشانات کے گرد ایک خوبصورت دائرہ بنائیں گے اور ایک منفرد ڈیزائن بنائیں گے۔ اس کے بعد یہ سلسلہ جاری رہا اور وہ پرنٹس ہمارے گھر کا حصہ بن گئے* ۔ ہمارے گھر آنے والے ہر فرد نے ہمارے منفرد ڈیزائن کی تعریف کی۔ وقت کے ساتھ ساتھ میں بھی بوڑھا ہوتا گیا۔ اب مجھے چلنے کے لیے دیوار کے سہارے کی ضرورت تھی۔ ایک دن چلتے ہوئے مجھے یاد آئے اپنے والد سے میرے کہے ہوئے الفاظ، اور سہارے کے بغیر چلنے کی کوشش کی تاکید ۔ میرے بیٹے نے یہ دیکھا اور فوراً میرے پاس آیا اور چلتے ہوئے مجھے دیواروں کا سہارا لینے کو کہا، اس خدشے کا اظہار کرتے ہوئے کہ میں سہارے کے بغیر گر سکتا ہوں، میں نے دیکھا کہ میرا بیٹا مجھے پکڑے ہوئے ہے۔ میری پوتی فوراً آگے آئی اور پیار سے میرا ہاتھ اپنے کندھے پر رکھ کر سہارا دیا۔ میں تقریباً خاموشی سے رونے لگا۔ اگر میں نے اپنے والد کے لیے بھی یہی کیا ہوتا تو وہ زیادہ دیرتک صحت مند اور خوش رہتے میری پوتی نے مجھے ساتھ لیا اور صوفے پر بٹھایا۔ پھر اس نے مجھے دکھانے کے لیے اپنی ڈرائنگ بک نکالی۔ اس کی استانی نے اس کی ڈرائنگ کی تعریف کی تھی اور اس کو بہترین ریمارکس دیے تھے۔ خاکہ دیواروں پر میرے والد کے ہاتھ کے نشان کا تھا۔* اس کے ریمارکس تھے- "کاش ہر بچہ بڑوں سے اسی طرح پیار کرے" میں اپنے کمرے میں واپس آیا اور اپنے والد سے معافی مانگتے ہوئے رونے لگا، جو اب نہیں تھے ۔ ہم بھی وقت کے ساتھ بوڑھے ہو جاتے ہیں۔ آئیے اپنے بڑوں کا خیال رکھیں اور اپنے بچوں کو بھی یہی سکھائیں ۔ اپنے گھر والوں کو بھی بتائیں کہ یہ بزرگ قیمتی ہوتے ہیں دیواریں اور چیزیں نہیں۔ منقول