علماء ہی اولیاء ہیں

یحییٰ بن یحییٰ بیان کرتے ہیں: جب امام مالک رحمۃ اللہ علیہ کا مرضِ الموت طویل ہوا اور وقتِ آخر آنے کو ہوا تو مدینہ منورہ اور دوسرے شہروں سے تمام علماء اور فقہاء امام صاحب کے مکان پر جمع ہو گئے تاکہ امامِ وقت کی آخری ملاقات سے فیض یاب اور ان کی وصیتوں سے بہرہ مند ہوں۔ یحییٰ بن یحییٰ کہتے ہیں: "اس وقت امام مالک رحمۃ اللہ علیہ کی عیادت کرنے والے مجھ سمیت ایک سو سے زائد علماء حاضر تھے۔ میں بار بار امام مالک رحمۃ اللہ علیہ کے پاس جاتا اور سلام عرض کرتا تھا تاکہ اس آخری وقت میں امام کی نظر مجھ پر پڑ جائے اور وہ نظر میری سعادتِ اخروی کا ذریعہ بن جائے۔ میں اسی کیفیت میں تھا کہ امام نے آنکھیں کھولیں اور ہماری طرف متوجہ ہو کر فرمایا: اللہ تعالیٰ کا شکر ہے جس نے ہمیں کبھی ہنسایا اور کبھی رلایا، اس کے حکم سے زندہ رہے اور اس کے حکم سے جان دیتے ہیں۔" اس کے بعد خود ہی فرمایا: "موت آگئی اور اللہ تعالیٰ سے ملاقات کا وقت قریب ہے۔" حاضرین نے عرض کیا: "اس وقت آپ کے باطن کا کیا حال ہے؟" فرمایا: "میں اس وقت اولیاء اللہ کی مجلس کی وجہ سے بہت خوش ہوں کیونکہ میں اہلِ علم کو اولیاء اللہ گردانتا ہوں۔ اللہ تعالیٰ کو حضرات انبیاء علیہم السلام کے بعد علماء سے زیادہ کوئی شخص پسند نہیں ہے۔ نیز میں اس لیے بھی خوش ہوں کہ میری تمام زندگی علم کی تحصیل اور اس کی تعلیم میں گزری ہے اور میں اس سلسلے میں اپنی تمام مساعی کو مستجاب اور مشکور گمان کرتا ہوں، اس لیے کہ تمام فرائض اور سنن اور ان کے ثواب کی تفصیلات ہمیں زبانِ رسالت مآب صلی اللہ علیہ وسلم سے معلوم ہوئیں، مثلاً حج کا اتنا ثواب ہے اور زکوٰۃ کا اتنا، اور ان تمام معلومات کو سوائے حدیث کے طالب علم کے کوئی نہیں جان سکتا اور یہی اصل میں نبوت کی میراث ہے۔" یحییٰ بن یحییٰ کہتے ہیں: اس کے بعد امام مالک رحمۃ اللہ علیہ نے ربیع کی ایک روایت بیان کی کہ "کسی شخص کو نماز کے مسائل بتلانا روئے زمین کی تمام دولت صدقہ کرنے سے بہتر ہے اور کسی شخص کی دینی الجھن دور کر دینا نفلی روزے رکھنے سے افضل ہے۔" اور ابنِ شہاب زہری رحمۃ اللہ علیہ کی روایت سے بتایا: "کسی شخص کو دینی مشورہ دینا کئی غزوات میں جہاد کرنے سے بہتر ہے۔" راوی کہتے ہیں: اس گفتگو کے بعد امام مالک رحمۃ اللہ علیہ نے کوئی بات نہیں کی اور اپنی جان جانِ آفریں کے سپرد کر دی۔ اللہ تعالیٰ ان پر اپنی وسیع رحمتوں کا سایہ کرے۔ آمین! (دبستان الحمد، از شاہ عبدالعزیز محدث دہلوی رحمۃ اللہ علیہ، ص: ۱۳۹) منقول۔ انتخاب : اسلامک ٹیوب پرو

ارے بھائی!

اگر آپ ہزاروں کتابیں، نعتیں، تصاویر، ویڈیوز، اخبار، مضامین، قبلہ نما، اوقات نماز، اسلامک گھڑی اور بہت کچھ آسانی کے ساتھ حاصل کرنا چاہتے ہیں تو بس ہمارے Islamic Tube ایپ کو پلے سٹور سے انسٹال کرو، اور بالکل مفت اور آسانی کے ساتھ اسلامک مواد حاصل کرو

ڈاؤن لوڈ کریں
Image 1

ایک قاضی کا عجیب و غریب فیصلہ

ایک قاضی کا عجیب و غریب فیصلہ

ایک ریاست میں ایک بوڑھے شخص کو روٹی چوری کرتے پکڑا گیا ، علاقے کے کچھ لوگ اسے پکڑ کر وقت کے قاضی (جج) کے پاس لے گئے ، قاضی نے بوڑھے بابا سے کافی سوالات کئے ۔ لیکن بابا نے کوئی جواب نہیں دیا ، بالآخر قاضی نے فیصلہ یوں سنایا ۔ بابا جی روٹی چوری کرنے کے جرم میں ایک درہم تندور کے مالک کو بطور جرمانہ ادا کرے گا ۔ یہ سنتے ہی لوگوں نے فاتحانہ نعرے لگانے شروع کئے ۔ قاضی صاحب نے کہا کہ ٹھہر وا بھی فیصلہ کی دوسری قسط باقی ہے ، سب لوگ سمجھے کہ اب شاید بابا کو قید کی سزا بھی ہوگی ۔ لیکن قاضی کے فیصلہ نے سب کو حیرت میں ڈال دیا ۔ قاضی نے گرجدار آواز میں فیصلہ سنایا کہ جتنے لوگ بابا جی کو پکڑ کر لائے ہیں وہ سب اور جو لوگ بابا جی کے گھر کے آس پاس تین گلیوں میں رہتے ہیں وہ سب ہر ماہ کی پہلی تاریخ کو پچاس درہم بابا جی کو بطور جرمانہ ادا کریں گے۔ لوگوں نے اس کی وجہ پوچھی تو قاضی نے جواب دیا ۔ نہ بابا کی عمر چوری کی ہے نہ با با پیشہ ور چور لگتے ہیں کیونکہ اگر چور ہوتے تو اپنی صفائی اچھے انداز سے پیش کرتے جیسا کہ چوروں کا دستور ہے ۔بابا جی کو بھوک نے چوری تک پہنچایا ہے ۔ اس کا سب سے بڑا سبب بابا کے پڑوسی ہیں ۔ جنہوں نے کبھی بابا کی خبر نہ لی اس لئے بابا ایک روٹی کے چور ہیں جبکہ بابا جی کا پورا محلہ انسانیت کا چور ہے ۔ جو سزا میں نے سنائی ہے حقیقت میں تمہارا فریضہ تھا جو تم ادا نہ کر سکے اسلئے اسکو جرم کا نام دیا گیا۔ قاضی کے فیصلہ نے بابا جی کے آنکھوں سے آنسو نکال دئے ۔ جبکہ تماش بینوں کی گردن جھکا دی۔ ___________📝📝___________ منقول۔ انتخاب : اسلامک ٹیوب پرو ایپ۔