حضرت ابراھیم بن ادہمؒ کی چھ ❻ قیمتی نصائح

ایک شخص آپ کے پاس آیا اور عرض کیا کہ کچھ نصحیت فرمائیے آپ نے فرمایا چھ (❻) باتیں بتاتا ہوں ان پر عمل کرو پھر کچھ بھی کروگے نقصان نہ پہنچے گا آپ نے ان چھ باتوں کی وضاحت اس طرح کی: ❶ جب گناہ کرو تو اس کی ( اللہ پاک) کی نعمت مت کھاؤ دنیا میں جو کچھ ہے وہ اس کی نعمت ہے کیا یہ شرم کی بات نہیں ہے کہ اس کی نعمت سے بہرہ مند ہو اور پھر بھی گناہ کرو ـ ❷ اگر گناہ کرنا چاہو تو اس کے ملک سے باہر چلے جاؤ مشرق مغرب تک اس کا ملک ہے یہ اچھا نہیں معلوم ہوتا کہ اس ملک میں رہ کر اس کی نافرمانی کی جائے ـ ❸ اگر گناہ کرو تو ایسی جگہ کرو جہاں اللہ تعالٰی تجھ کو نہ دیکھتا ہو کیا یہ شرم کی بات نہیں ہے کہ اسکے ملک میں رہو،اسکا رزق کھاؤ اور پھر اسکے سامنے گناہ کرو ـ ❹ جب ملک الموت قبض روح کے لئے آئیں تو ان سے کہو کہ اتنی مہلت دیجیے کہ توبہ کرلوں اگر تجھ کو اتنی قدرت حاصل نہیں ہے کہ ملک الموت کو اپنے پاس سے واپس کردے تو بہتر یہی ہے کہ ملک الموت کے آنے سے پہلے توبہ کرلے ـ ❺ جب منکر نکیر تیری قبر میں آئیں تو تُو ان کو کسی بہانے سے اپنے پاس سے واپس کردے اگر یہ بات دشوار ہے تو تجھ کو چاہیئے کہ ان کے آنے سے پہلے جواب تیار کر رکھے تاکہ اس وقت پریشانی نہ ہو ـ ❻ جب بروز قیامت گناہ گاروں کو دوزخ میں بھیجا جانے لگے تو تو دوزخ میں جانے سے انکار کردے اگر یہ ممکن نہیں تو پھر ایسا کوئی کام کرنا چاہئے جس سے تو عذاب میں گرفتار نہ ہووے یہ سب باتیں سن کر اس شخص نے عرض کیا کہ وہ مطلب بخوبی سمجھ گیا اس شخص نے اسی وقت توبہ کی اور آپ کی خدمت میں رہنے لگا ـ ـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ کتاب : اللہ کے عاشقوں کی عاشقی کا منظر ( صفحہ نمبر ۱۵۳) مؤلف: مولانا ارسلان اختر میمن انتخاب : اسلامک ٹیوب پرو ایپ

ارے بھائی!

اگر آپ ہزاروں کتابیں، نعتیں، تصاویر، ویڈیوز، اخبار، مضامین، قبلہ نما، اوقات نماز، اسلامک گھڑی اور بہت کچھ آسانی کے ساتھ حاصل کرنا چاہتے ہیں تو بس ہمارے Islamic Tube ایپ کو پلے سٹور سے انسٹال کرو، اور بالکل مفت اور آسانی کے ساتھ اسلامک مواد حاصل کرو

ڈاؤن لوڈ کریں
Image 1

سمجھداری يا چالاکی __؟؟

سمجھداری يا چالاکی __؟؟

ایک شاطر اور چالاک مالدار شخص کسی گاؤں میں ایک کسان کے پاس پہنچا اور اُسے پارٹنر شپ کی آفر کی، کہ رقم میری ہوگی اور محنت تمہاری! لیکن جب فصل تیار ہو جائے گی تو جو حصّہ زمین کے اندر ہوتا ہے وہ تمہارا جبکہ اوپر والا سارا میرا ہوگا (یہ چالاکی اس نے اس لئے کی کہ زمین میں جڑیں ہوتی ہیں جو اس بے وقوف کسان کے حصے میں آئیں گی اور اصل قیمت تو اوپر والے حصے کی ہوتی ہے وہ میں لے اُڑوں گا) بہرحال کسان نے کچھ دیر سوچا اور آفر قبول کرلی۔ جب فصل تیار ہوگئی تو چالاک مالدار اپنا حصہ لینے پہنچا تو یہ دیکھ کر اپنا سر پکڑ لیا کہ کسان نے پیاز کی فصل بوئی تھی چنانچہ معاہدے کے مطابق پیاز کسان کے حصے میں آئی اور اوپر کے بے قیمت پتے مالدار کو ملے۔ چالاک مالدار نے سبق سیکھ کر باز آنے کے بجائے ایک اور داؤ کھیلنے کا سوچا اور کسان کو ایک مرتبہ پھر پارٹنر شپ کی آفر کی لیکن اس مرتبہ شرط یہ رکھی کہ فصل کا جو حصہ زمین کے اندر ہوگا وہ میرا اور اوپر والا تمہارا! کسان نے یہ شرط قبول کرلی۔ جب فصل تیار ہونے پر چالاک مالدار اپنا حصہ لینے پہنچا تو دیکھ کر ہکّا بَکّا رہ گیا کہ کسان نے گَنّے اُگائے تھے جس کی بےکار جڑیں اس کے حصے میں آئیں اور قیمتی گَنّے کسان کو ملے، کسان کی سمجھداری کے ہاتھوں دو مرتبہ اپنی چالاکی کا نقصان اُٹھانے کے بعد بھی مالدار نے ہار نہیں مانی اور سارا حساب چُکانے کے لئے کسان کو اگلی فصل کے لئے رقم دیتے ہوئے کہا: میں دو مرتبہ نقصان میں رہا ہوں اس لئے اس مرتبہ فصل کا نچلا اور اُوپر والا حصہ میرا ہوگا درمیان میں جو کچھ ہوگا وہ تمہارا ہوگا۔ اب کی بار فصل تیار ہوئی تو چالاک مالدار خوشی خوشی کھیتوں میں پہنچا کہ اس مرتبہ فائدہ صرف میرا ہوگا، لیکن کھیتوں میں پہنچ کر اس کے چہرے کا رنگ بدل گیا کہ کسان نے اس مرتبہ مکئی (چھلیاں) اُگائی تھی جس کا نچلا اور سب سے اوپر والا حصہ بے قیمت ہوتا ہے اور اصل قیمت درمیان میں موجود چَھلی کی ہوتی ہے۔ یوں کسان کی سمجھداری نے مالدار کی چالاکی کو شکست دے دی۔ پیارے بھائیو! عقل اللہ پاک کی دی ہوئی بہت بڑی نعمت ہے، اب یہ انسان پر موقوف ہے کہ وہ عقل کا استعمال مثبت کرتا ہے یا منفی! سمجھداری میں کرتا ہے یا چالاکی میں! 🖋🌹💠منقول از : سبــق آمـوز کہــانیــاں 💠🌹🖋