متفرقات

دعوت فکر و نظر
دعوت فکر و نظر
ہندوستان میں مسلم لڑکیوں کا ارتداد (واقعات و معاملات کے آئینے میں)
ہندوستان میں مسلم لڑکیوں کا ارتداد (واقعات و معاملات کے آئینے میں)
مختصر اعمال اور ان کے فضائل
مختصر اعمال اور ان کے فضائل
بیت المقدس کی تلاش
بیت المقدس کی تلاش
دیوالی اور ہندووانہ تہوار (عقل و نقل کی روشنی میں)
دیوالی اور ہندووانہ تہوار (عقل و نقل کی روشنی میں)
تاریخی مساجد کی حفاظت اور ہماری ذمہ داریاں
تاریخی مساجد کی حفاظت اور ہماری ذمہ داریاں
سیدنا عیسیٰ بنِ مریم علیہما السلام
سیدنا عیسیٰ بنِ مریم علیہما السلام
مقالات عثمانی
مقالات عثمانی
یہود کی چالیس بیماریاں
یہود کی چالیس بیماریاں
Image 1

خدمت کا اخلاقی پہلو: ایک عورت کی کہانی

خدمت کا اخلاقی پہلو: ایک عورت کی کہانی

شیخ محمد راوی سے ایک عورت نے سوال پوچھا کہ ان کے شوہر کی والدہ بیمار رہتی ہیں۔ شوہر تقاضا کرتا ہے کہ میں ان کے ماں کی خدمت کروں اور  مجھ سے یہ سب نہیں ہوتا۔ کیا مجھ پر شوہر کے ماں کی خدمت واجب ہے؟ شیخ نے جواب دیا نہیں تجھ پر شوہر کے ماں کی خدمت ہرگز واجب نہیں ہے ہاں البتہ تمہارے شوہر پر واجب ہے کہ وہ اپنی ماں کی خدمت کرے۔ پھر شیخ نے تین حل پیش کیے پہلا حل والدہ کو گھر لیکر آئیں اور دن رات آپ کے شوہر اور اس کے بچے اپنی ماں اور دادی کی خدمت کرے ان پر یہ واجب ہے یاد رکھیں آپ پر واجب نہیں ہے۔ دوسرا حل والدہ کو الگ گھر میں رکھیں اور انکی دیکھ بھال خدمت و خبر گیری کے لیے وہاں جاتا رہے اگر والدہ یہ تقاضا کرے کہ رات ان کے سرہانے گزارے تو ماں کے پاس رات رکنا ان پر واجب ہے، یاد رکھیں آپ پر واجب نہیں ہے۔ تیسرا حل والدہ کی دیکھ بھال کے لئے ایک نرس رکھ لیں اگر نرس کے لیے تنخواہ دینے میں حرج ہو تو گھر کے اخراجات کم کرکے نرس کی تنخواہ دے، نرس کی موجودگی میں والدہ کے پاس آتے جاتے فتنے میں پڑنے کا خطرہ ہو نرس سے شادی کرنا واجب ہوگا، اس طرح وہ تین نیکیوں کو جمع کرے گا دوسری شادی کا اجر، ماں کی خدمت کا اجر اور فتنے سے بچنے کا اجر ۔ البتہ آپ پر شوہر کے ماں کی خدمت واجب نہیں ہے، لہذا آپ عزت کے ساتھ اپنے گھر رکی رہیں۔ کچھ دیر سوچنے کے بعد عورت بولی، شیخ صاحب شوہر کی ماں بھی میری ماں جیسی ہے واجب نہیں تو مستحب سہی میں خود اسکی خدمت کروں گی۔ منقول

Whats New

Naats