حدیث الرسول ﷺ

عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ، ‏‏‏‏‏‏قَالَ:‏‏‏‏ كُنْتُ أُصَلِّي الظُّهْرَ مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، ‏‏‏‏‏‏فَآخُذُ قَبْضَةً مِنَ الْحَصَى لِتَبْرُدَ فِي كَفِّي أَضَعُهَا لِجَبْهَتِي أَسْجُدُ عَلَيْهَا لِشِدَّةِ الْحَرِّ (ابو داؤد: ۳۹۹)
ترجمہ
حضرت جابر بن عبد اللہ رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں کہ میں رسول اللہ ﷺ کے ساتھ ظہر کی نماز پڑھا کرتا تھا تو اپنی مٹھی میں کنکریاں اٹھا لیتا تاکہ ٹھنڈی ہو جائیں اور انہیں اپنی پیشانی کے نیچے رکھ کر سجدہ کر سکوں اور یہ سخت گرمی کے باعث ہوتا تھا ۔
دیوار پر والد کے ہاتھ کے نشان۔
مضامین

دیوار پر والد کے ہاتھ کے نشان۔

ابا جی بوڑھے ہو گئے تھے اور چلتے چلتے دیوار کا سہارا لیتے تھے۔ نتیجتاً دیواروں کا رنگ خراب ہونے لگ گیا، جہاں بھی وہ چھوتے تھے وہاں دیواروں پر ان کی انگلیوں کے نشانات چھپ جاتے تھے۔ میری بیوی کو جب پتہ چلا تو وہ اکثر گندی نظر آنے والی دیواروں کے بارے میں مجھ سے شکایت کرتی۔ ایک دن سر میں درد ہو...

تازہ ترین خبریں

تمام خبریں