حدیث الرسول ﷺ

عَنْ زَيْدِ بْنِ خَالِدٍ الْجُهَنِيِّ، ‏‏‏‏‏‏أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ سُئِلَ عَنِ اللُّقَطَةِ، ‏‏‏‏‏‏فَقَالَ:‏‏‏‏ عَرِّفْهَا سَنَةً فَإِنْ جَاءَ بَاغِيهَا فَأَدِّهَا إِلَيْهِ، ‏‏‏‏‏‏وَإِلَّا فَاعْرِفْ عِفَاصَهَا وَوِكَاءَهَا ثُمَّ كُلْهَا فَإِنْ جَاءَ بَاغِيهَا فَأَدِّهَا إِلَيْهِ(ابو داؤد: ۱۷۰۶)
ترجمہ
حضرت زید بن خالد جہنی رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ سے گری پڑی اشیاء کے متعلق پوچھا گیا تو آپ نے فرمایا :’’ ایک سال تک اس کا اعلان کرو ۔ اگر اس کا طلب کرنے والا آ جائے تو اس کو دے دو ، ورنہ اس کی تھیلی ( یا برتن ) اور اس کا سربند یاد رکھو ، پھر اسے کھا لو ( اپنے استعمال میں لے آؤ ) اس کے بعد اگر اس کا متلاشی آ جائے تو اس کے حوالے کر دو ۔‘‘
اسرائیلی مظالم کی ایک جھلک:
مضامین

اسرائیلی مظالم کی ایک جھلک:

اقوام متحدہ کے ۱۹۴۸ء کے منظور کردہ نقشے کے مطابق نا جائز ریاست اسرائیل کا رقبہ پانچ ہزارتین سو (۵،۳۰۰) مربع میل تھا۔ لیکن اسرائیل نے رفتہ رفتہ تئیس ہزار (۲۳٬۰۰۰) مربع میل پر قبضہ کر لیا۔ اور اس پر بس نہیں عظیم تر اسرائیل کے نقشے میں مصر ، عراق ، شام ، سعودیہ عرب حتی کہ مدینہ منورہ، خیبر ، تک کو اسرا...

تازہ ترین خبریں

تمام خبریں