حَدَّثَنَا أَنَسٌؓ قَالَ خَدَمْتُ النَّبِيَّ صلى الله عليه وسلم عَشْرَ سِنِينَ، فَمَا قَالَ لِي أُفٍّ. وَلاَ لِمَ صَنَعْتَ؟ وَلاَ أَلاَّ صَنَعْتَ؟(بُخاری شریف ۶۰۳۸)
ترجمہ
حضرت انسؓ کہتے ہیں: میں نے دس سال نبی صلی ﷺ کی خدمت کی ، پس کبھی آپ نے مجھ سے اوں نہیں کہا، اور کبھی ایسے کام کے لئے جو میں نے کیا : تونے یہ کام کیوں کیا ؟ نہیں کہا، اور کبھی میں نے کوئی کام نہیں کیا تو ”تو نے یہ کام کیوں نہیں کیا ؟“ نہیں کہا (تحفۃ القاری)
بہت عرصہ پہلے ایک جگہ سیب کا ایک بہت بڑا درخت تھا ور روزانہ ایک بچہ وہاں آکر اُس درخت کے اِرد گِرد کھیلا کرتا تھا، وہ بچہ اس درخت کی ٹہنیوں سے چمٹ چمٹ کر اس کی چوٹی پر چڑھتا اس کے سیب کھاتا اور تھک کر اس کے سائے کے نیچے لیٹ کر مزے سے اونگھتا، وہ بچہ اس درخت سے محبت کرتا تھا اوروہ درخت بھی اس سے محبت...