حضرت ابن عمرؓ سے مروی ہے کہ نبی کریم ﷺ نے ارشاد فرمایا کہ عہد شکنی کرنے والے شخص کے لئے قیامت کے دن ایک جھنڈا گاڑا جائے گا اور اس سے کہا جائے گا کہ یہ فلاں بن فلاں کی عہد شکنی ہے ( تاکہ تمام لوگ اس کی ذلت دیکھیں )(سنن ابو داؤد مترجم/ج:۲)
سمرقند کے اسی سفر میں ایک عالم ایک نوجوان کو اس عاجز(شیخ پیر ذو الفقار احمد نقشبندی) سے ملانے کے لیے لائے اور بتایا کہ یہ وہ خوش نصیب نو جوان ہے جو روسی انقلاب کے زمانے میں پانچ مرتبہ اذان دے کر کھلے عام نمازیں پڑھتا تھا۔ یہ سن کر اس عاجز کو حیرت ہوئی اور پوچھا: وہ کیسے؟ اس نوجوان نے اپنی پیٹھ پر سے...