عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَؓ أَنَّهُ مَرَّ بِقَوْمٍ بَيْنَ أَيْدِيهِمْ شَاةٌ مَصْلِيَّةٌ، فَدَعَوْهُ فَأَبٰى أَنْ يَأْكُلَ قَالَ خَرَجَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم مِنَ الدُّنْيَا وَلَمْ يَشْبَعْ مِنَ الْخُبْزِ الشَّعِيرِ (بُخاری شریف :۵۴۱۴)
ترجمہ
حضرت ابو ہریرہؓ ایک قوم کے پاس سے گزرے، ان کے سامنے بھنی ہوئی بکری تھی، انھوں نے ابو ہریرہؓ کو کھانے پر بلایا، آپ نے کھانے سے انکار کر دیا ( آپ کو دور نبوی یاد آ گیا ) پس فرمایا: نبی ﷺ دنیا سے تشریف لے گئے اور آپ کو جَو کی روٹی پیٹ بھر کر نصیب نہیں ہوئی۔(تحفۃ القاری)
دنیا دل اور دماغ کو ایک ہی خانہ میں رکھ دیتی ہے، دونوں کا سرا ایک دوسرے سے یوں ملادیتی ہے، جیسے ان میں کوئی بھی فرق نہ ہو اور نا کوئی امتیاز ہو یا پھر ایک انتہا یہ ہے؛ کہ دونوں کے درمیان اس قدر دوری پیدا کردیتی ہے، کہ جیسے دونوں کا وجود ہی ایک دوسرے سے دور رہنا اور متفرق رہنا ہو____ صحیح بات یہ ہے ک...