حدیث الرسول ﷺ

قَالَتْ عَائِشَةُ : صَنَعَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ شَيْئًا فَرَخَّصَ فِيهِ ، فَتَنَزَّهَ عَنْهُ قَوْمٌ ، فَبَلَغَ ذَلِكَ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَخَطَبَ فَحَمِدَ اللَّهَ ، ثُمَّ قَالَ : مَا بَالُ أَقْوَامٍ يَتَنَزَّهُونَ عَنِ الشَّيْءِ أَصْنَعُهُ ، فَوَاللَّهِ إِنِّي لَأَعْلَمُهُمْ بِاللَّهِ وَأَشَدُّهُمْ لَهُ خَشْيَةً (بُخاری شریف:۶۱۰۱)
ترجمہ
صدیقہؓ فرماتی ہیں: نبی ﷺ نے کوئی کام کیا، پس (اپنے عمل سے ) اس کی اجازت بیان کی، مگر اس سے کچھ لوگ دور رہے، یہ بات نبی ﷺ کو پہنچی تو آپ نے خطاب فرمایا، اللہ کی تعریف کی پھر فرمایا: کچھ لوگوں کو کیا ہو گیا ہے کہ وہ اس چیز سے دور رہتے ہیں جو میں کرتا ہوں! پس بخدا! میں ان سے زیادہ اللہ تعالیٰ کو جانتا ہوں، اور ان سے زیادہ اللہ تعالیٰ سے ڈرتا ہوں“(تحفۃ القاری)
ایک بزرگ کی لوگ ان کے منہ پر تعریف کر رہے تھے
مضامین

ایک بزرگ کی لوگ ان کے منہ پر تعریف کر رہے تھے

مولانا فخر الحسن صاحب گنگوہی رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں کہ میں مکہ معظمہ میں ایک بزرگ کی خدمت میں حاضر ہوا لوگ ان کے منہ پر ان کی تعریف کر رہے تھے اور وہ خوش ہو رہے تھے۔ میں نے اپنے دل میں کہا یہ کیسے بزرگ ہیں جو اپنی تعریف سے مزے لے رہے ہیں ان کو اس خطرہ کی اطلاع ہو گئی فوراً جواب دیا کہ میری تعریف...

تازہ ترین خبریں

تمام خبریں