حدیث الرسول ﷺ

عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِي اللَّهُ عَنهُ قَالَ : جَاءَ رَجُلٌ إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللهُّ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ:يَارَسُولَ اللَّهِ أَيُّ الصَّدَقَةِ أَعْظَمُ أَجْرًا؟ قَالَ : " أَنْ تَصَدَّقَ وَأَنتَ صَحِيحٌ شَحِيْحٌ تَخْشَى الْفَقْرَ، وَتَأْمُلُ الغنَى، وَلَا تُمْهِلْ حَتَّى إِذَا بَلَغَتِ الْحُلُقُومَ قُلْتَ: لِفُلانٍ كَذَا وَ لِفُلانٍ كَذَا، وَقَدْ كَانَ لِفُلَانِ,(متفق عليه)
ترجمہ
حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ تعالی عنہ بیان کرتے ہیں کہ ایک آدمی رسول اللہ ﷺ کے پاس آیا عرض کیا یا رسول اللہ ﷺ کس قسم کے صدقہ کا ثواب زیادہ ہے؟ فرمایا تندرستی، بخل کی موجودگی ، افلاس کے ڈر اور غنا کی امید کی حالت میں صدقہ خیرات کرنا اور صدقہ کرنے میں سستی نہ کیجئے یہاں تک کہ جب سانس حلق کی طرف آنےلگے تو پھر تو کہنا شروع کرے کہ فلاں کو اتنا اور فلاں کو اتنا حالانکہ وہ فلاں کا ہو چکا،(روضةالصالحین ج١ ص٢٨٦)
علم نافع کی علامت
مضامین

علم نافع کی علامت

ایک سوال ذہن میں پیدا ہوتا ہے کہ علم نافع کی علامت کیا ہوتی ہے؟ جی ہاں نفع دینے والا علم بھی ہوتا ہے نبی علیہ السلام نے ہمیں دعاء سکھائی ہے: اللهم اني أعوذ بك من علم لا ينفع “اے اللہ ! میں پناہ مانگتا ہوں ایسے علم سے جو نفع نہ دیتا ہو چناں چہ علم نافع کی دو علامتیں ہیں۔ پہلی علامت: بندے کو اس علم...

تازہ ترین خبریں

تمام خبریں