حدیث الرسول ﷺ

حَدَّثَنَا أَنَسُ بْنُ مَالِكٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ ، أَنَّ رَجُلًا ، قَالَ : يَا نَبِيَّ اللَّهِ ، كَيْفَ يُحْشَرُ الْكَافِرُ عَلَى وَجْهِهِ ؟ قَالَ : أَلَيْسَ الَّذِي أَمْشَاهُ عَلَى الرِّجْلَيْنِ فِي الدُّنْيَا ، قَادِرًا عَلَى أَنْ يُمْشِيَهُ عَلَى وَجْهِهِ يَوْمَ الْقِيَامَةِ قَالَ قَتَادَةُ : بَلَى وَعِزَّةِ رَبِّنَا(بُخاری شریف: ۶۵۲۳)
ترجمہ
حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ ایک صاحب نے عرض کیا یا نبی اللہ یہ کفار (قیامت کے دن) اپنے چہرہ کے بل کسی طرح جمع کئے جائیں گے؟ (منھ کے بل کس طرح چلیں گے؟ ) آنحضور ﷺ نے فرمایا کیا وہ ذات جس نے دنیا میں دو پاؤں پر چلایا کیا اس پر قادر نہیں ہے کہ قیامت کے دن انہیں ان کے چہرے کے بل چلائے قتادہ نے کہا ضرور ہے ہمارے رب کی عزت کی قسم ۔(نصر الباری)
والد کا سبق آموز جواب
مضامین

والد کا سبق آموز جواب

ابو الکلام کہتے ہیں : ایک رات کھانے کے وقت میری والدہ نے سالن اور جلی ہوئی روٹی میرے والد کے آگے رکھ دی میں والد کے رد عمل کا انتظار کرتا رہا کہ شاید وہ غصے کا اظہار کر ینگے لیکن انہوں نے انتہائی سکون سے کھانا کھایا اور ساتھ ہی مجھ سے پوچھا کہ آج سکول میں میرا دن کیسا گزرا ؟ مجھے یاد نہیں کہ م...

تازہ ترین خبریں

تمام خبریں