محقق مسئلہ

ملازم کو تنخواہ طے کیے بغیر رکھنا جائز نہیں ہے اس سے معاملہ فاسد ہو جائے گا ، عقد کے وقت ہی تنخواہ طے کرنا ضروری ہے اور طے نہ کرنے کی صورت میں وہ اجرتِ مثل کا مستحق ہوگا‌ یعنی ایسا آدمی اتنی ہی ذمہ داری کے ساتھ دوسری جگہ کام کرتا اور اس کو

جو تنخواہ ملتی اسی کا مستحق ہوگا۔(ماخوذ از : کاروباری مسائل اور اُن کا شرعی حل قسط اول/ ص:۹۳)

مشہور عربی حکایت: “سچ کے گواہ”
مضامین

مشہور عربی حکایت: “سچ کے گواہ”

کہتے ہیں ایک بستی ایسی تھی جو جھوٹ بولنے اور جھوٹی گواہی دینے میں مشہور تھی۔ اسی بستی میں ایک مرد و عورت نے خفیہ طور پر، مگر مکمل شرعی طریقے سے نکاح کر لیا۔ قاضی، گواہان، اور شرعی تقاضے سب پورے تھے۔ کچھ عرصے بعد دونوں میں ناچاقی ہو گئی۔ شوہر نے بیوی کو گھر سے نکال دیا اور اسے تمام شرعی حقوق سے بھ...

تازہ ترین خبریں

تمام خبریں