محقق مسئلہ

روزے میں دانت اکھڑوانا

بعض لوگ یہ خیال کرتے ہیں کہ بحالت روزہ دانت اکھڑوانے سے روزہ ٹوٹ جاتا ہے، جب کہ صحیح یہ ہے کہ روزے کی حالت میں دانت اکھڑوانے سے روزہ نہیں ٹوٹتا ہے، کیوں کہ روزہ کے ٹوٹنے اور نہ ٹوٹنے کا تعلق ایسی چیزوں سے ہے جو حلق کے نیچے پہنچتی ہو، دانت چونکہ حلق سے اوپر ہے، اس لئے بذات خود دانت نکالنے میں کوئی حرج نہیں ہے، البتہ اگر دانت اکھڑواتے وقت جو خون نکلا اس کو تھوک کے ساتھ نگل لیا اور خون تھوک پر غالب تھا تو روزہ ٹوٹ جائیگا ، اور اگر دونوں برابر ہوں تب بھی استحسانا روزہ ٹوٹ جائیگا ۔ (اہم مسائل/ج:۴/ص:۹۲)

جماعت اور مسجد کا اہتمام
مضامین

جماعت اور مسجد کا اہتمام

مجھے یاد ہے کہ دیوبند میں جب میری عمر تقریباً دس بارہ سال تھی ، ایک دن فجر کی نماز کے وقت سخت آندھی موسلا دھار بارش اور گرج چمک کی بنا پر والد صاحب ( مفتی محمد شفیع صاحب ) مسجد تشریف نہ لے جاسکے اور نماز گھر میں ہی ادا فرمائی، اُدھر دادا ابا جو مسجد کے عاشق اور نماز باجماعت کے شیدائی تھے، اسی حالت م...

تازہ ترین خبریں

تمام خبریں