انجان مسلمان کی پکی ہوئی چیز سے افطار کرنا۔
جب مؤمن اور مسلمان بھائی ہم کو افطار کرا رہا ہے تو ہم کو ظنوا بالمؤمنین خیراً کے تحت یہی گمان کرنا چاہئے کہ حلال مال سے کھلا رہا ہے، نیز ہم ظاہر کے مکلف ہیں ، باطن کے نہیں ، لہذا ہم کو کسی مسلمان کے بارے میں تحقیق کرنے کا بھی حق نہیں ہے؛ البتہ اگر دلائل و قرائن کے ذریعہ حتمی طور پر معلوم ہو جائے کہ یہ حرام مال سے کھلاتا ہے تو پھر ایسے شخص کے یہاں کھانے پینے سے احتراز لازم ہے۔(کتاب النوازل/ج:۶/ص:۳۴۵)