محقق مسئلہ

رزق کی تنگی کی وجہ سے حمل ساقط کرانا ؟ رزق کی تنگی کے خطرہ سے اسقاط حمل کسی بھی حال میں جائز نہیں ہے؛ بلکہ اس مقصد سے اسقاط کرانے میں(تنگ دستی کے اندیشہ سے) قرآن کریم میں اولاد کو قتل کرنے سے سختی سے منع کیا گیا ہے، اور اگر ماں کی سخت کمزوری یا دودھ پیتے بچے کی پرورش میں خلل پڑنے کا خطرہ ہو تو ۱۲۰ دن کے اندر اندر مجبوری میں اس کی گنجائش ہے، اس مدت کے بعد اجازت نہیں ہے۔(کتاب النوازل/ج:۱۶/ص:۲۶۶)

عربی اَدب سے ایک حکایت

عربی اَدب سے ایک حکایت

ایک آدمی کئی راتیں سخت سردی میں آرام سے سوتا رہا۔ایک دن کسی راہگیر نے گزرتے ہوئے اسے کہا : " میں تمہیں ایک گرم رضائی لا کر دوں گا"!! وہ راہگیر اپنی منزل کو چلا گیا اور رضائی لانے کا وعدہ بھول گیا ، بوڑھا آدمی اس کا انتظار کرتے ہوئے سردی سے مر گیا۔لوگوں کو اس کی لاش کے پاس ایک مخطوط رقعہ ملا۔اس پر یہ الفاظ لکھے تھے : " میں نے تمہارے آنے سے پہلے کئی رات سردی برداشت کی کیونکہ میرے پاس کوئی اور آسرا نہیں تھا مگر تمہاری بات نے مجھے ایک امید دلا کر اسے میرا آسرا بنا دیا اور میں نے تم پر امید لگا کر اپنی قوت کھو دی۔چناچہ...سردی نے مجھے مار ڈالا"۔ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ اپنی بات اور وعدے کو ہمیشہ پورا کرو۔اور جب بولو تو الفاظ کا انتخاب سوچ سمجھ کر کرو۔اگر تمہاری امید کسی کو تسلی اور سہارا دے سکتی ہے تو اسے توڑ بھی سکتی ہے۔

Image 1

Naats