سود خور اور رشوت لینے والے کی دعوت افطار کا حکم؟
ایسا مسلمان کہ جس کی آمدنی مشکوک ہو یعنی وہ سود خور ہے، رشوت لیتا ہے، یا دیگر سیاسی ذرائع سے جو نا جائز ہوں، ان سے آمدنی پیدا کرتا ہے، ایسے شخص کی غالب آمدنی اگر حلال ہے تو اس کی دعوت افطار قبول کرنا جائز ہے، اور اگر غالب آمدنی حرام ہے تو اس کی دعوت افطار قبول کرنا جائز نہیں ہے۔ (فتاوی احیاء العلوم ار ۲۳۷)(کتاب النوازل/ج:۶/ص:۳۴۷)