محقق مسئلہ

شریعت اسلامیہ نے جہاں بہت سے تفریحی کھیلوں کی اجازت دی ہے، وہیں چند ایسے کھیلوں کو جو آپسی جھگڑوں، تضیع اوقات ، جوا، قمار کا ذریعہ ہیں سختی کے ساتھ منع فرمایا ہے، مثلاً چوسر ، شطرنج ، کبوتر بازی، مرغ بازی، بٹیر بازی، پتنگ بازی ، جانوروں کو لڑانا ، ویڈیو گیم ، گوٹی ،لوڈو، تاش کھیلنا وغیرہ ، ان تمام کھیلوں میں سوائے نقصانات کے دینی یا دنیوی کوئی فائدہ نہیں ، اس لیے یہ سب ممنوع ہیں۔ (اہم مسائل/ج:۲/ص:۲۲۷)

سمجھداری يا چالاکی __؟؟
مضامین

سمجھداری يا چالاکی __؟؟

ایک شاطر اور چالاک مالدار شخص کسی گاؤں میں ایک کسان کے پاس پہنچا اور اُسے پارٹنر شپ کی آفر کی، کہ رقم میری ہوگی اور محنت تمہاری! لیکن جب فصل تیار ہو جائے گی تو جو حصّہ زمین کے اندر ہوتا ہے وہ تمہارا جبکہ اوپر والا سارا میرا ہوگا (یہ چالاکی اس نے اس لئے کی کہ زمین میں جڑیں ہوتی ہیں جو اس بے وقوف کسان...

تازہ ترین خبریں

تمام خبریں