لڑکی جب رخصت ہو کر سسرال چلی جاتی ہے، تو شوہر کے تابع ہو کر سسرال ہی اس کا وطن بن جاتا ہے؛ البتہ جب میکہ جو اس کا پہلے سے وطن اصلی ہے وہ اس وقت تک وطن اصلی باقی رہے گا، جب تک کہ عرف کے اعتبار سے وہاں کی آمد ورفت، اور قیام نسبتاً سسرال سے زائد ہو، اور جب وہ مستقل سسرال میں قیام کرنے لگے، اور میکہ میں عارضی طور پر آنے جانے لگے، تو اب اس کا میکہ اس کا وطن اصلی باقی نہ رہے گا اور میکہ میں پندرہ دن سے کم قیام کی صورت میں قصر کرے گی۔ ( بہشتی زیور ۵۰/۲، فتاوی محمودیه ۵۰۱/۷)(ماخوذ: کتاب النوازل ۴۵۲/۵ )