فکس ڈپوزٹ میں رقم رکھنا جائز نہیں۔ اور اگر لا علمی میں کسی نے رکھ دیا تو سود کی رقم کو اس کے مصارف میں خرچ کرنا ضروری ہے اس کے متفق علیہ مصارف دو ہیں :
(۱) غیر واجبی ٹیکس ۔ (۲) فقراء مسلمین۔
سود کی رقم کو سود میں نہیں دے سکتے۔
بہتر یہی ہے کہ متفق علیہ پر عمل کیا جائے ضرورت شدیدہ کے وقت اگر مختلف فیہ پر عمل کر لیا گیا تو بہر حال اس کی گنجائش ہے۔ (حبیب الفتاویٰ ج:۷/ص:۱۷۲)