📝 ایک بوڑھے حاجی کی دل کو چھو لینے والی داستان ♦️ایک ضعیف العمر بزرگ ایک نوجوان کے ساتھ حج کے لیے نکلے۔ جب انہوں نے احرام باندھا اور "لَبَّیْک" (اے اللہ! میں حاضر ہوں) پکارا تو غیب سے آواز آئی: "لَا لَبَّیْک" (تیری حاضری قبول نہیں)۔ نوجوان حاجی نے حیران ہو کر پوچھا: "کیا آپ نے یہ جواب سنا؟" بوڑھے حاجی نے آنسو بہاتے ہوئے کہا: "ہاں، میں 𝟕𝟎 سال سے یہی جواب سن رہا ہوں۔ ہر بار میں 'لَبَّیْک' کہتا ہوں، اور جواب آتا ہے 'لَا لَبَّیْک'!" نوجوان نے کہا: "پھر آپ یہ تکلیف اٹھا کر کیوں آتے ہیں؟" بوڑھے نے روتے ہوئے جواب دیا: "پھر میں کس کے دروازے پر جاؤں؟ چاہے مجھے رد کر دیا جائے یا قبول کیا جائے، میں نے تو بس اسی کے در پر آنا ہے۔ اس کے سوا میری کوئی پناہ گاہ نہیں!" اِسی وقت غیب سے آواز آئی: "جاؤ! تمہاری تمام حاضریاں قبول کر لی گئیں!" •[تفسیر روح البیان ج.𝟏𝟎 ص.𝟏𝟕𝟔]

ارے بھائی!

اگر آپ ہزاروں کتابیں، نعتیں، تصاویر، ویڈیوز، اخبار، مضامین، قبلہ نما، اوقات نماز، اسلامک گھڑی اور بہت کچھ آسانی کے ساتھ حاصل کرنا چاہتے ہیں تو بس ہمارے Islamic Tube ایپ کو پلے سٹور سے انسٹال کرو، اور بالکل مفت اور آسانی کے ساتھ اسلامک مواد حاصل کرو

ڈاؤن لوڈ کریں
Image 1

یہ حالات بدلتے کیوں نہیں؟

یہ حالات بدلتے کیوں نہیں؟

محی السنہ حضرت شاہ ابرار الحق سے بعض حضرات نے شکایت کی کہ مسلمانوں کی پریشانیاں دن بدن بڑھتی ہی جا رہی ہیں ، خانقاہوں اور مدارس میں دعاؤوں کا خوب اہتمام ہو رہا ہے ، اللہ والے مسلسل اللہ کے حضور دعائیں کر رہے ہیں لیکن مسلمانوں کی پریشانیاں بڑھتی ہی جارہی ہیں ، حالات بد سے بدتر ہوتے ہی جا رہے ہیں تو اس وقت حضرت نے ایک مثال دے کر معاملہ یوں سمجھایا تھا کہ کسی شخص کا باپ اس سے ناراض ہو جائے اور اس کی ناراضگی کی وجہ سے اس پر اپنی عنایات کا سلسلہ بند کر دے اور وہ لڑکا اپنے والد سے معافی تلافی کے بجائے دوسروں سے کہتا پھرے کہ میرے والد مجھ سے ناراض ہیں آپ ان سے سفارش کر دیجئے کہ وہ مجھ سے راضی ہو جائیں اور پہلی سی محبت کا معاملہ کرنے لگیں اور خود براہ راست والد سے رجوع نہ کرے، نہ ان سے اپنے جرم کا اعتراف و اقرار کرے تو والد کی نظر عنایت اس پر کیسے ہوگی۔ اس وقت پوری امت کا المیہ یہی ہے کہ خالق کائنات کے حضور میں گستاخیاں اور جرائم کا ارتکاب تو خود کرتے ہیں اور ان کی معافی تلافی کے لئے اہل اللہ اور مشائخ سے دعائیں کراتے پھرتے ہیں، خود اللہ کے حضور توبہ واستغفار کی کوشش اور ضرورت محسوس نہیں کرتے ۔ اللہ کی راہ اب بھی ہے کھلی، آثار و نشاں سب قائم ہیں اللہ کے بندوں نے لیکن اس راہ میں چلنا چھوڑ دیا (کتاب : ماہنامہ مظاہر علوم سہارنپور(نومبر) صفحہ نمبر: ۶ انتخاب: اسلامک ٹیوب پرو ایپ)