جو در کعبے کا کھلوائے اسے فاروق کہتے ہیں
جو رب کا دین منوائے...
Ummah Post
27 June, 2025

جو در کعبے کا کھلوائے اسے فاروق کہتے ہیں

جو رب کا دین منوائے اسے فاروق کہتے ہیں

نگاہ انتخاب ہے وہ نبوت کی نگاہوں کا

اثر ہے جو محمد پاک کی پیاری دعاؤں کا

فخر ہے جو محمد پاک کی شریعت کے گواہوں کا

جو محسن ہے حکومت کے ایوانوں بادشاہوں کا

جو عدوِ دین تڑپائے اسے فاروق کہتے ہیں

جسے مانگا خدا سے اس کے آفاقی پیغمبرنے

دعائے نبی کی لاج رکھی اس مرد قلندر نے

عرب کے مرد حر نے اور حقیقت کے سکندر نے

جس کے حکم کو مانا ہواؤں نے سمندر نے

جو خشک دریا چلوائے اسے فاروق کہتے ہیں

دمِ ہجرت وہ نکلا اور للکارا پجاری کو

ابوجہل ،ابو لہب ، ہر بد بخت ناری کو

حلالی ہو تو روکو آج عمر کی اس سواری کو

میں موتیں بانٹنے نکلا ہوں بتادو ہر بھکاری کو

جو کفر کے چھکے چھڑوائے اسے فاروق کہتے ہیں

میرا ایمان ہے الطاف میرا یہ عقیدہ ہے

پڑھا آپ کی مدحت میں، میں نے جب قصیدہ ہے

جو سن کے جھوم اٹھتا ہے خوشا اس کا نصیبا ہے

جو جل جائے تو سمجھ لینا شر اس نے خریدا ہے

منافق جس سے جل جائے اسے فاروق کہتے ہیں

جو در کعبے کا کھلوائے اسے فاروق کہتے ہیں

رضی اللہ تعالٰی عنہ

۔۔۔۔

✍: حافظ محمد الطاف منہاس رح

Share this article
ایک ہی صف میں کھڑے ہوگئے محمود و ایاز :
مضامین

ایک ہی صف میں کھڑے ہوگئے محمود و ایاز :

امام ابو یوسف رحمۃ اللہ علیہ ہارون رشیدؒ کے زمانے میں پورے عالم اسلام کے قاضی القضاۃ تھے، ایک بار ان کے پاس خلیفہ ہارون رشیدؒ اور ایک نصرانی کا مقدمہ آیا، امام نے فیصلہ نصرانی کے حق میں کیا، اس طرح کے درخشاں واقعات تاریخ اسلام کے ورک ورک پر بکھرے پڑے ہیں، لوگ اس کو "دور ملوکیت" کہتے ہیں وہ کس قدر م...