/17nov2025/ إِنَّا لِلّٰهِ وَإِنَّا إِلَيْهِ رَاجِعُونَ بریکنگ نیوز: مدینہ کے قریب عمرہ زائرین کی بس کو خطرناک حادثہ پیش آیا ہے۔ ابتدائی اطلاعات کے مطابق 42 بھارتی عمرہ زائرین جاں بحق ہونے کا اندیشہ ہے۔ تفصیلات کے مطابق مکہ سے مدینہ جاتے ہوئے ایک مسافر بس کی ڈییزل ٹینکر سے ٹکر ہوئی۔ حادثہ صبح 1:30 بجے (بھارتی وقت) مُفرَحات نامی مقام پر پیش آیا۔ ابتدائی رپورٹس کے مطابق جاں بحق اور زخمی ہونے والوں میں خواتین، بچے اور حیدرآباد کے متعدد زائرین شامل ہونے کا خدشہ ہے۔ بتایا جا رہا ہے کہ 20 خواتین اور 11 بچے بھی بس میں سوار تھے۔ زائرین عمرہ کی ادائیگی کے بعد مدینہ منورہ کی طرف سفر کر رہے تھے، اور حادثے کے وقت زیادہ تر مسافر سو رہے تھے۔ مقامی ذرائع کے مطابق اموات کی تعداد 42 بتائی جا رہی ہے، تاہم حکام کی جانب سے حتمی تصدیق ابھی جاری ہے۔ ریسکیو ٹیمیں جائے حادثہ پر موجود ہیں اور امدادی کارروائیاں جاری ہیں۔ مزید تفصیلات کا انتظار ہے۔ اللّٰہ تعالیٰ تمام جاں بحق ہونے والوں کی مغفرت فرمائے، زخمیوں کو شفا کاملہ عطا فرمائے، اور اہلِ خانہ کو صبرِ جمیل عطا کرے۔ آمین۔ ~ــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ~ 📚 *🕌﴿☆٘عُلَمـٰـاءٕهِــنْـد☆﴾🕌*

ارے بھائی!

اگر آپ ہزاروں کتابیں، نعتیں، تصاویر، ویڈیوز، اخبار، مضامین، قبلہ نما، اوقات نماز، اسلامک گھڑی اور بہت کچھ آسانی کے ساتھ حاصل کرنا چاہتے ہیں تو بس ہمارے Islamic Tube ایپ کو پلے سٹور سے انسٹال کرو، اور بالکل مفت اور آسانی کے ساتھ اسلامک مواد حاصل کرو

ڈاؤن لوڈ کریں
Image 1

اصل سخاوت کہاں ہونی چاہیے؟

اصل سخاوت کہاں ہونی چاہیے؟

‏ایک عورت نے ایک بزرگ ریڑھی والے سے پوچھا : " انڈے کتنے روپے درجن ہیں؟" بوڑھے نے ادب سے جواب دیا: "بی بی، تیس روپے فی انڈہ۔" عورت بولی: "میں چھ انڈے 150 روپے میں لوں گی، ورنہ چلی جاؤں گی۔" بوڑھا آدمی نرمی سے مسکرایا: "بی بی، جیسے آپ چاہیں ویسے لے لیں۔ میرے لیے تو یہ اچھی شروعات ہے۔ آج ابھی تک ایک بھی انڈہ نہیں بِکا، اور مجھے اسی سے گزارا کرنا ہے۔" عورت اپنے خیال میں بہترین سودے پر خوش ہو کر وہاں سے چلی گئی۔ کچھ دیر بعد وہ اپنی لگژری کار میں بیٹھ کر ایک مہنگے ریسٹورنٹ پہنچی، جہاں اپنی دوست کے ساتھ کھانا کھایا۔ دونوں نے بے جھجھک آرڈر کیا، کھانے کو مشکل سے ہاتھ بھی لگایا، اور جب 4500 روپے کا بل آیا تو 5000 ادا کر کے مالک سے کہا کہ باقی رکھ لو، یہ ٹِپ ہے۔ ریسٹورنٹ کے لیے یہ سخاوت عام بات ہوگی، لیکن انڈے بیچنے والے کے لیے یہ ایک خاموش ناانصافی تھی۔ ہم کیوں اکثر کمزور اور محتاج لوگوں کے سامنے اپنی طاقت دکھانے کی ضرورت محسوس کرتے ہیں ؟ اور کیوں سخاوت وہاں دکھاتے ہیں جہاں اس کی اصل ضرورت نہیں ہوتی ؟ میں نے کہیں ایک باپ کی کہانی پڑھی تھی جو ہمیشہ غریب ٹھیلے والوں سے چیزیں لیتے وقت قیمت سے زیادہ ادا کرتا تھا۔ اس کے بچوں نے اس سے پوچھا کہ اباجان آپ ایسا کیوں کرتے ہیں ؟ اس نے کہا: "یہ خیرات ہے، مگر عزت کے پردے میں لپٹی ہوئی۔" انگریزی ادب سے ماخوذ 🛑❤️