/17nov2025/ إِنَّا لِلّٰهِ وَإِنَّا إِلَيْهِ رَاجِعُونَ بریکنگ نیوز: مدینہ کے قریب عمرہ زائرین کی بس کو خطرناک حادثہ پیش آیا ہے۔ ابتدائی اطلاعات کے مطابق 42 بھارتی عمرہ زائرین جاں بحق ہونے کا اندیشہ ہے۔ تفصیلات کے مطابق مکہ سے مدینہ جاتے ہوئے ایک مسافر بس کی ڈییزل ٹینکر سے ٹکر ہوئی۔ حادثہ صبح 1:30 بجے (بھارتی وقت) مُفرَحات نامی مقام پر پیش آیا۔ ابتدائی رپورٹس کے مطابق جاں بحق اور زخمی ہونے والوں میں خواتین، بچے اور حیدرآباد کے متعدد زائرین شامل ہونے کا خدشہ ہے۔ بتایا جا رہا ہے کہ 20 خواتین اور 11 بچے بھی بس میں سوار تھے۔ زائرین عمرہ کی ادائیگی کے بعد مدینہ منورہ کی طرف سفر کر رہے تھے، اور حادثے کے وقت زیادہ تر مسافر سو رہے تھے۔ مقامی ذرائع کے مطابق اموات کی تعداد 42 بتائی جا رہی ہے، تاہم حکام کی جانب سے حتمی تصدیق ابھی جاری ہے۔ ریسکیو ٹیمیں جائے حادثہ پر موجود ہیں اور امدادی کارروائیاں جاری ہیں۔ مزید تفصیلات کا انتظار ہے۔ اللّٰہ تعالیٰ تمام جاں بحق ہونے والوں کی مغفرت فرمائے، زخمیوں کو شفا کاملہ عطا فرمائے، اور اہلِ خانہ کو صبرِ جمیل عطا کرے۔ آمین۔ ~ــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ~ 📚 *🕌﴿☆٘عُلَمـٰـاءٕهِــنْـد☆﴾🕌*

ارے بھائی!

اگر آپ ہزاروں کتابیں، نعتیں، تصاویر، ویڈیوز، اخبار، مضامین، قبلہ نما، اوقات نماز، اسلامک گھڑی اور بہت کچھ آسانی کے ساتھ حاصل کرنا چاہتے ہیں تو بس ہمارے Islamic Tube ایپ کو پلے سٹور سے انسٹال کرو، اور بالکل مفت اور آسانی کے ساتھ اسلامک مواد حاصل کرو

ڈاؤن لوڈ کریں
Image 1

​​زندگی بھر اللہ کی نافرمانی کرنے والا

​​زندگی بھر اللہ کی نافرمانی کرنے والا

ایک حدیث حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے... فرماتے ہیں کہ ایک مرتبہ حضور اقدس ﷺ نے پچھلی اُمتوں کے ایک شخص کا واقعہ بیان فرمایا... کہ ایک شخص تھا جس نے اپنی جان پر بڑا ظلم کیا تھا... بڑے بڑے گناہ کئے تھے... بڑی خراب زندگی گزاری تھی... اور جب اس کی موت کا وقت آیا تو اس نے اپنے گھر والوں سے وصیت کرتے ہوئے کہا... کہ میں نے اپنی زندگی کو گناہوں اور غفلتوں میں گزار دی ہے... کوئی نیک کام تو کیا نہیں ہے... اس لئے جب میں مرجاؤں تو میری نعش کو جلا دینا اور جو راکھ بن جائے تو اس کو بلکل باریک پیس لینا... پھر اس راکھ کو مختلف جگہوں پر تیز ہوا میں اُڑادینا تاکہ وہ ذرّات دور دور تک چلے جائیں... یہ وصیت میں اس لئے کر رہا ہوں... کہ اللہ کی قسم میں اللہ تعالٰی کے ہاتھ آگیا تو مجھے اللہ تعالٰی ایسا عذاب دے گا... کہ ایسا عذاب دنیا میں کسی اور شخص کو نہیں دیا ہوگا... اس لئے کہ میں نے گناہ ہی ایسے کئے ہیں کہ اس عذاب کا مستحق ہوں... جب اس شخص کا انتقال ہوگیا تو اس کے گھر والوں نے اس کی وصیت پر عمل کرتے ہوئے اس کی نعش کو جلایا... پھر اس کو پیسا اور پھر ہواؤں میں اُڑادیا... جس کے نتیجے میں اس کے ذرات دور دور تک بکھر گئے... یہ تو اس کی حماقت کی بات تھی کہ شاید اللہ تعالٰی میرے ذرّات کو جمع کرنے پر قادر نہیں ہوں گے... چنانچہ اللہ تعالٰی نے ہوا کو حکم دیا کہ اس کے ذرات جمع کرو... جب ذرات جمع ہوگئے تو اللہ تعالٰی نے حکم دیا... کہ اس کو دوبارہ مکمل انسان جیسا تھا ویسا بنادیا جائے... چنانچہ وہ دوبارہ زندہ ہوکر اللہ تعالٰی کے سامنے پیش کیا گیا... اللہ تعالٰی نے اس سے سوال کیا کہ تم نے اپنے گھر والوں کو یہ سب عمل کرنے کی وصیت کیوں کی تھی؟ جواب میں اس نے کہا "خـــشیـتک یارب" اے اللہ آپ کے ڈر کی وجہ سے... اس لئے کہ میں نے گناہ بہت کئے تھے اور ان گناہوں کے نتیجے میں مجھے یقین ہوگیا تھا کہ میں آپ کے عذاب کا مستحق ہوگیا ہوں... اور آپ کا عذاب بڑا سخت ہے تو میں نے اس عذاب کے ڈر سے یہ وصیت کردی تھی... اللہ تعالٰی فرمائیں گے کہ میرے ڈر کی وجہ سے تم نے یہ عمل کیا تھا... تو جاؤ میں نے تمہیں معاف کردیا... یہ واقعہ خود حضور اقدسﷺ نے بیان فرمایا جو صحیح مسلم میں صحیح سند کے ساتھ موجود ہے ـ (صحیح مسلم کتاب التوبة و تنبیہ الغافلین) ـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ کتاب : اللہ بندوں سے کتنی محبت کرتے ہیں؟ ( صفحہ نمبر : ۳۳۶، ۳۲۷ ) مولف : مولانا ارسلان بن اختر انتخاب : اسلامک ٹیوب پرو ایپ