سبحان الله ❤️ غسلِ کعبہ کی باوقار تقریب کا آغاز غسلِ کعبہ ایک نہایت روحانی اور عظمت سے بھرپور عمل ہے، جو ہر سال دو مرتبہ انجام دیا جاتا ہے۔ اس عمل کے دوران بیت اللہ شریف کو خوشبوؤں اور پاکیزہ پانیوں سے دھویا جاتا ہے۔ 2025 کے غسلِ کعبہ میں درج ذیل مخصوص اشیاء استعمال کی جارہی ہیں: 40 لیٹر زمزم کا پانی، جو چاندی کے دو بڑے برتنوں میں رکھا گیا۔ زمزم کے پانی کو 540 ملی لیٹر طائف کے عرقِ گلاب کے ساتھ ملایا گیا تاکہ خوشبو اور پاکیزگی میں اضافہ ہو۔ 24 ملی لیٹر اعلیٰ معیار کا طائف عرقِ گلاب کا تیل (Rose Oil)۔ 24 ملی لیٹر حرمین کا مخصوص عود کا تیل (Oud Oil)۔ 3 ملی لیٹر کستوری (Musk)، جو دیواروں اور فرش کو معطر کرنے کے لیے استعمال کی گئی۔ یہ تمام اشیاء نہایت اعلیٰ معیار کی ہوتی ہیں اور ان کا انتخاب خصوصی اہتمام اور احترام کے ساتھ کیا جاتا ہے تاکہ بیت اللہ کی عظمت و تقدس کی تجدید کی جا سکے۔

ارے بھائی!

اگر آپ ہزاروں کتابیں، نعتیں، تصاویر، ویڈیوز، اخبار، مضامین، قبلہ نما، اوقات نماز، اسلامک گھڑی اور بہت کچھ آسانی کے ساتھ حاصل کرنا چاہتے ہیں تو بس ہمارے Islamic Tube ایپ کو پلے سٹور سے انسٹال کرو، اور بالکل مفت اور آسانی کے ساتھ اسلامک مواد حاصل کرو

ڈاؤن لوڈ کریں
Image 1

دُم کٹا لومڑ

دُم کٹا لومڑ

ایک لومڑ کی دم پہ پتھر اَگرا، اور دم کٹ گئ۔ ایک دوسرے لومڑ نے جب اسے دیکھا تو پوچھا! یہ تمنے اپنی دم کیوں کاٹی؟ دم کٹا لومڑ بولا اس سے بڑی خوشی وفرحت محسوس ھوتی ھے۔ایسے لگتا ھے کہ جیسے ھواوں میں اڑ رھا ھوں۔واہ!! کیا تفریح ھے! بس گھیر گھار کر اس دوسرے لومڑ کو اسنے دم کاٹنے پر راضی کرہی لیا۔ اسنے جب یہ دم کٹائ کی مہم سرکرلی تو بجاے سکون کے شدید قسم کا درد محسوس ھونے لگا!! پوچھا میاں!! جھوٹ کیوں بولا مجھ سے؟ پہلا کہنے لگا جو ہوا سو ہوا! اب یہ درد کی داستان دوسرے لومڑوں کو سنائ تو انہوں نے دمیں نہیں کٹوانی اور ہم دو دم کٹوں کا مذاق بنتا رھےگا! بات سمجھ لگی تو یہ دونوں دم کٹے پوری برادری کو یہ خوش کن تجربہ کرنے کا کہتے رہیں۔ نتیجہ یہ نکلا کہ لومڑوں کی اکثریت دم کٹی ھوگئ۔ اب حالت یہ ھوگئ یہ جہاں کوئ دم والا لومڑ دکھلائ دیتا اسکا مذاق اڑایا جاتا! جب بھی فساد عام ہوکر پھیل جاتا ھے عوام نیکوکاروں کو انکی نیکی پہ طعنے دینے لگ جاتے ہیں اور احمق لوگ انکا مذاق اڑاتے ہیں۔ حضرت کعب سے روایت ہے کہ فرمایا لوگوں پہ ایسا زمانہ آئے گا کہ مومن کو اسکے ایمان پہ ایسے ہی عار دلائ جاوےگی جیسے کہ آجکل بدکار کو اسکی بدکاری پہ عار دلائ جاتی ھے۔یہاں تک کہ آدمی کو طنزا کہا جاےگا کہ واہ بھئ! تم تو بڑے ایمان دار فقیہ بندے ھو!! بگڑا ھوا معاشرہ جب نیکوکارون میں کوئ قابلِ اعتراض بات نہیں تلاش کرپاتا تو انکی بھترین خوبی پہ ہی انکو عار دلانے لگ جاتا ھے! لوط علیہ السلام کی قوم نے کیا نہی کہا تھا  نکال دو لوط کے گھر والون کو اپنی بستی سے!! یہ تو بھت نیک بنے پھرتے ہیں۔ یہ ہمارے معاشرہ کی حقیقت ہے کہ جس میں ہم جیتے ہیں منقول