کتنی ہی مرتبہ ایسا ہوتا ہے کہ ڈوبتی کشتی کنارے سے جا لگتی ہے...
Ummah Post
18 July, 2025

کتنی ہی مرتبہ ایسا ہوتا ہے کہ ڈوبتی کشتی کنارے سے جا لگتی ہے۔۔۔ دم توڑتے مریض صحت یاب ہوجاتے ہیں۔۔۔ ممکنہ حادثات سے انسان بال بال بچ جاتا ہے۔۔۔ ہر طرف اندھیرا چھاجانے کے بعد امید کا کوئی ایک جگنو چمکتا ہے اور رفتہ رفتہ ہر طرف روشنی پھیل جاتی ہے۔۔۔ کبھی مسلسل نقصان ہوتے ہوتے خلاف توقع فائدے ہونے لگتے ہیں۔۔۔

ایسے مواقع پر ہمارا عمومی رویہ یہ ہوتا ہے کہ "یہ محض اتفاق ہوگیا" "فلاں نے میری مدد کردی" "وہ تو عین موقع پر میں نے یوں کیا اور یوں کیا اگر میں یہ نہ کرتا تو مسئلہ ہوجاتا" یعنی حیران کردینے والی کامیابی اور نئے پیدا ہونے والے مواقع نیز جان لیوا حادثات سے بچ جانے کو ہم اتفاق اور اپنا کمال سمجھ کر گزر جاتے ہیں۔۔۔ کاش ہم لمحہ بھر توقف کر کے یہ سوچیں کہ یہ سب ہماری غیر موجودگی میں ہمارے لیے کی جانے والی دعاؤں کا نتیجہ ہے۔۔۔ ہمارے والدین، مرشد، دوست احباب کی دعائیں۔۔۔ جو ہمارے لیے رب کریم کی بارگاہ میں خیر و عافیت کے سوال کرتے ہیں۔۔۔ یہ محض رب کا فضل ہوتا ہے کہ زندگی کی گاڑی مصیبت کے گھڑے میں گرتے گرتے عافیت کی شاہراہ پر آجاتی ہے۔۔۔ اگر اس زاویہ نظر سے ہم اپنے روز و شب کا جائزہ لیں تو قدم قدم پر رب تعالی کا شکر ادا کرنے کی توفیق نصیب ہوگی۔۔۔

کسی نے خوب کہا کہ جب تم پر کوئی احسان کرے تو اپنے محسن کا شکر بعد میں ادا کرو پہلے رب تعالی کا شکر ادا کرو کہ اس نے اس شخص کے دل میں تم پر احسان کرنے کا خیال پیدا کیا اور اسے توفیق دی۔۔۔ لیکن ہم اپنی تنگ نظری کے سبب اللہ کریم کی بہت سی نعمتوں اور احسانات کو سمجھ نہیں پاتے اور ملنے والی آسانیوں کو اپنی طرف اور لوگوں کی طرف منسوب کرتے ہوئے گزر جاتے ہیں۔۔۔

اللہ کریم ہمیں اپنا شکر گزار بندہ بننے کی توفیق نصیب کرے۔

Share this article
جماعت اور مسجد کا اہتمام
مضامین

جماعت اور مسجد کا اہتمام

مجھے یاد ہے کہ دیوبند میں جب میری عمر تقریباً دس بارہ سال تھی ، ایک دن فجر کی نماز کے وقت سخت آندھی موسلا دھار بارش اور گرج چمک کی بنا پر والد صاحب ( مفتی محمد شفیع صاحب ) مسجد تشریف نہ لے جاسکے اور نماز گھر میں ہی ادا فرمائی، اُدھر دادا ابا جو مسجد کے عاشق اور نماز باجماعت کے شیدائی تھے، اسی حالت م...