`*┄┅════❁﷽❁════┅┄*` ‎ ‎*❂_ Duniya ki Sabse Sakht aur Khamosh Saza Ye Hai K Allah Tumhare Dil se Apne Zikr Ka Zoq Chheen Le, Dil Duniya Ki Fizool Baato me Uljha Rahe aur Zubaan Ese Jumle Bole Jo Tumhari Nekiyo'n Ko Mita dale'n, _,* ‎ •••✦✿✦••• ‎*❂_ ‏دنیا کی سب سے سخت اور خاموش سزا یہ ہے کہ اللہ تمہارے دل سے اپنے ذکر کا ذوق چھین لے، دل دنیا کی فضول باتوں میں الجھا رہے اور زبان ایسے جملے بولے جو تمہاری نیکیوں کو مٹا ڈالیں _,* ‎ •••✦✿✦••• ‎*❂_ दुनिया की सबसे सख्त और ख़ामोश सज़ा ये है कि अल्लाह तुम्हारे दिल से अपने ज़िक्र का ज़ौक़ छीन ले, दिल दुनिया की फ़िज़ूल बातों में उलझा रहे और ज़ुबान ऐसे जुमले बोले जो तुम्हारी नेकियों को मिटा डालें _,* ‎ ‎*❂_ The harshest and most silent punishment in the world is for Allah to take away the taste for His remembrance from your heart, for your heart to be entangled in the trivial things of the world, and for your tongue to utter such words that erase your good deeds _,* ‎                        ‎*━━━━━━⊱✿⊰━━━━━━─* `Israeel Fani`‎✍🏻 Subscribe to my channel Https://shorturl.at/xt09w

ارے بھائی!

اگر آپ ہزاروں کتابیں، نعتیں، تصاویر، ویڈیوز، اخبار، مضامین، قبلہ نما، اوقات نماز، اسلامک گھڑی اور بہت کچھ آسانی کے ساتھ حاصل کرنا چاہتے ہیں تو بس ہمارے Islamic Tube ایپ کو پلے سٹور سے انسٹال کرو، اور بالکل مفت اور آسانی کے ساتھ اسلامک مواد حاصل کرو

ڈاؤن لوڈ کریں
Image 1

چشمِ خطا پوش :

چشمِ خطا پوش  :

ایک شخص نے فضل بن ربیعؒ کے نام کا جعلی خط تحریر کیا، جس میں اپنے لئے ایک ہزار دینار کا حکم جاری کر کے دستخط کئے گئے تھے، وہ شخص خط لے کر فضل بن ربیع کے خزانچی کے پاس پہنچا، اس نے خط پڑھ ڈالا مگر اسے کوئی شبہ نہ گزرا، وہ ایک ہزار دینار اس کے سپرد کرنے ہی لگا تھا کہ اس دوران فضل بن ربیعؒ کسی کام سے خود وہاں آ پہنچا، خزانچی نے اس شخص کا تذکرہ اس کے سامنے کیا اور خط بھی دکھایا، فضل بن ربیعؒ نے خط دیکھنے کے بعد ایک نظر اس شخص کے چہرے پر ڈالی تو اس کا چہرہ زرد پڑ گیا اور خوف سے تھر تھر کانپ رہا تھا، فضل بن ربیعؒ سر جھکا کر کچھ دیر سوچنے کے بعد خزانچی سے مخاطب ہوا " تمہیں معلوم ہے میں اس وقت تمہارے پاس کیوں آیا ہوں؟" خزانچی نے نفی میں گردن ہلادی، فضل بن ربیعؒ نے کہا،" میں تمہیں صرف یہ تاکید کرنے آیا ہوں کہ اس شخص کو رقم فوراً ادا کر کے اس کی ضرورت پوری کرو" خزانچی نے فوراً ہزار دینار تھیلی میں ڈال کر اس شخص کے سپرد کردیئے، وہ شخص ہکا بکا رہ گیا، گھبراہٹ کے عالم میں کبھی وہ فضل بن ربیعؒ کے چہرے کو دیکھتا اور کبھی خزانچی کے، فضل بن ربیعؒ قریب ہوکر اس سے مخاطب ہوا "گھبراؤ نہیں اور راضی خوشی گھر کا رخ کرو " اس شخص نے فرط جذبات سے فضل بن ربیعؒ کے ہاتھ کا بوسہ لیا اور کہا، "آپ نے میری پردہ پوشی کی اور رسوا نہ کیا، روز قیامت اللہ آپ کی پردہ پوشی فرمائے اور رسوائی سے بچائے" یہ کہہ کر اس نے دینار لئے اور نکل آیا ـ ( المستطرف ص:۲۰۶) ــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ کتاب : کتابوں کی درس گاہ میں (صفحہ نمبر ۹۴ ) مصنف : ابن الحسن عباسی ؒ