​​امام غازی بن قیس الأندلسی رحمہ اللہ (١٩٩ھ) جب حصولِ علم کی...
Ummah Post
4 October, 2024

​​امام غازی بن قیس الأندلسی رحمہ اللہ (١٩٩ھ) جب حصولِ علم کی غرض سے مدینہ پہنچے تو انہوں نے دیکھا کہ مسجد نبوی میں ایک شخص داخل ہوا اور تحیۃ المسجد پڑھے بغیر بیٹھ گیا۔ غازی اس سے کہنے لگے : ”ارے بھائی، اٹھ کر دو رکعتیں پڑھو، تمہاری جہالت ہے کہ بغیر تحیۃ المسجد پڑھے بیٹھ گئے ہو۔“ اور بھی سخت باتیں کہیں۔ اس شخص نے اُٹھ کر دو رکعتیں پڑھ لی۔ فرض نماز ختم ہوئی تو غازی نے دیکھا کہ وہ شخص ٹیک لگا کر بیٹھ گیا ہے، اور اس کے گرد طلبہ کا حلقہ بننا شروع ہو گیا ہے۔ اب وہ خاصے شرمندہ ہوئے۔ لوگوں سے پوچھا یہ کون ہے تو انہوں نے بتلایا کہ یہ مدینہ کے فقیہ اور بڑے لوگوں میں سے ایک ابن ابی ذئب رحمہ اللہ ہیں۔ غازی فورًا ان سے معذرت کو لپکے مگر امام صاحب نے فرمایا : ”میرے بھائی، کوئی بات نہیں۔ آپ نے ہمیں نیکی کا حکم دیا، اور ہم نے آپ کی بات مانی۔“

(التمهيد لابن عبدالبر : ٤٦٠/١٢)

Share this article
مولا! میرا نُور مجھے لوٹا دے!! (قسط ثانی)
مضامین

مولا! میرا نُور مجھے لوٹا دے!! (قسط ثانی)

بسم الله ؛ رَبِّ يَسِّرْ وَأَعِنْ! نوٹ : اس منشور کے مخاطَبین صرف علومِ شریعت کے طلبہ ہیں۔ علمِ شرعی کو اللہ تعالیٰ نے قولِ ثقیل قرار دیا ہے۔ یہ بہت بھاری شے ہے۔ ہر کسی کو یہ راس آتا ہے نہ ہر کوئی اس کا اہل ہوتا ہے۔ اس کا نور کل انسانیت کیلیے ہے، مگر اس نور کے معادن و مصادر چند مخصوص سینے ہی...