*حسنِ اخلاق کی قیمت* 🥹 بغداد میں ایک شخص ابو حمزہ رہتے تھے جو "سُکری" کے لقب سے مشہور تھے ... انہیں "سُکری" کہنے کی وجہ کیا تھی؟ ... عربی میں "سُکر" چینی کو کہتے ہیں ... دراصل ان کے اخلاق اتنے میٹھے تھے کہ ان کی ہر بات چینی کی طرح مزے دار لگتی تھی ... لہٰذا ان کے اخلاق کی بدولت لوگوں نے انہیں "سُکری" مشہور کر دیا تھا ... ان کے بارے میں آتا ہے کہ وہ ایک بار سخت مقروض ہو گئے ... چنانچہ اپنا عظیم الشان گھر بیچ کر اپنا قرض ادا کرنا چاہا ... جب محلے والوں کو علم ہوا تو انہوں نے وجہ پوچھی ... کہنے لگے: مجھ پر مشکل وقت آگیا ہے اور معاشی طور پر کمزور ہو گیا ہوں ... لوگوں نے مشورہ کیا اور اس بات پر متفق ہوئے کہ اگر ہم سب محلے والوں نے مل کر ان کا قرض ادا نہ کیا اور "سُکری" ہم میں سے چلے گئے ... تو ہمیں ان جیسا کبھی نہیں ملے گا ... تمام لوگوں نے مل کر قرض کی رقم ادا کی ... اور "سُکری" کو اپنے محلے سے نہ جانے دیا ... اور نہ ہی ان کو مکان بیچنے دیا ... (کتاب البطن، صفحہ نمبر ۵۵)

ارے بھائی!

اگر آپ ہزاروں کتابیں، نعتیں، تصاویر، ویڈیوز، اخبار، مضامین، قبلہ نما، اوقات نماز، اسلامک گھڑی اور بہت کچھ آسانی کے ساتھ حاصل کرنا چاہتے ہیں تو بس ہمارے Islamic Tube ایپ کو پلے سٹور سے انسٹال کرو، اور بالکل مفت اور آسانی کے ساتھ اسلامک مواد حاصل کرو

ڈاؤن لوڈ کریں
Image 1

غـزہ کے مشہور داعی اور صحافی جناب جهاد حلس کی پوسٹ دیکھیے! فرما رہے ہیں:

غـزہ کے مشہور داعی اور صحافی جناب جهاد حلس  کی پوسٹ دیکھیے! فرما رہے ہیں:

"خدا کی قسم ! اگر آپ اہلِ غـزہ پر ڈھائے جانے والے مظالم اور تکالیف دیکھیں تو آپ دنگ رہ جائیں ، ذہن اس بات کو تسلیم نہیں کر پائے گا کہ آیا ایک انسان ان تمام مظالم اور تکالیف کو برداشت کر کے زندہ کیسے رہ سکتا ہے ؟ اور ان تکالیف کی شدت سے اس کی موت کیسے واقع نہیں ہوئی ؟!! خدا کی قسم ! اگر یہ تکالیف اور مشقتیں کسی چٹان پر گزرتیں تو وہ تکلیف کی شدت سے پھٹ جاتی، سمندر پر اتنا ظلم ڈھایا جاتا تو وہ بخارات بن جاتا، دیوہیکل پہاڑوں پر گر اتنا سِتم ڈھایا جاتا تو ان میں شگاف پڑ جاتے ، لوہے جیسی مضبوط دھات تک اس تکلیف کی شدت سے پگھل جاتی !! ہم نے جو آفتیں دیکھی ہیں اس کے مقابلے میں آپ کی پریشانیاں ہیچ ہیں، (باخدا یہ حقیقت ہے) ، ہم پر بیتنے والے دلسوز مناظر کے عادی نہ بنیں، اسے ہماری عادی زندگی / روٹین لائف نہ سمجھیں ، بلاشبہ ہمیں تنہا ، بے یارو مددگار چھوڑنے والوں کو اللّٰہ رب العزت دیکھ رہے ہیں ، اور ان سب کو اللّٰہ رب العزت کے حضور جواب دہ ہونا ہے۔" - مترجم: عبد الرحمن فضل۔