*کہانی: "نیک ہمسایہ"*✍🏻 ایک آدمی کہتا ہے: میرے پاس ایک بہت غریب ہمسایہ تھا جو سڑکوں پر روٹیاں بیچتا تھا۔ وہ اس کام سے زیادہ پیسے نہیں کماتا تھا اور ایک بڑی فیملی کی کفالت کرتا تھا، جو اس کی کمائی پر گزارا کرتی تھی۔ وہ روٹی بیچ کر اتنے پیسے کماتا تھا کہ وہ ایک سرکاری ملازم کی تنخواہ کے چوتھائی سے بھی کم تھے۔ اس کے باوجود، میں ہمیشہ اسے خوش اور مسکراتا ہوا دیکھتا تھا، جیسے وہ دنیا کی تمام دولت کا مالک ہو۔ میں نے سوچا، یہ شخص کیسے اتنا خوش رہ سکتا ہے، حالانکہ اس کی مالی حالت اتنی خراب ہے؟ اور اس کا ذریعہ معاش بہت کم ہے۔ پھر میں نے خود سے کہا: یہ خوشی کہاں ہے؟ میں کیوں اسے محسوس نہیں کرتا؟ میری مالی حالت تو اچھی ہے، میرے پاس بڑا گھر ہے، بینک میں پیسے ہیں، اور ہر چیز ہے جو مجھے چاہیے، پھر بھی میں اس خوشی کو محسوس نہیں کرتا۔ میں مایوس ہو گیا اور فیصلہ کیا کہ میں جاننا چاہتا ہوں کہ اس کی خوشی کا راز کیا ہے۔ آدمی کہتا ہے: میں جمعہ کے دن کا انتظار کرنے لگا کیونکہ وہ چھٹی کا دن تھا۔ میں نے اپنے خاندان کے ساتھ ناشتہ کیا، پھر میں نے اپنی گاڑی لی اور اس جگہ پہنچا جہاں وہ شخص روٹیاں بیچ رہا تھا۔ میں دور سے اسے دیکھنے لگا۔ اس نے ابھی تک کچھ نہیں بیچا تھا اور نہ ہی دن کا آغاز کیا تھا۔ کافی دیر انتظار کے بعد ایک چھوٹی سی بچی آئی، اور اس آدمی نے بہت ساری روٹیاں ایک تھیلے میں ڈال کر اسے دے دیں۔ بچی نے روٹی لی اور چلی گئی۔ میں حیران رہ گیا کہ وہ اسے اتنی زیادہ مقدار میں روٹی مفت دے رہا تھا، جبکہ اس نے ابھی تک کچھ بیچا بھی نہیں تھا۔ میں پریشان تھا کہ وہ کیسے پیسے کمائے گا، جبکہ وہ مفت میں روٹی بانٹ رہا ہے، حالانکہ اس کی کمائی بھی بہت کم تھی۔ لیکن حقیقی حیرانی تب ہوئی جب بچی کے جانے کے چند منٹ بعد، اچانک لوگوں کا ہجوم اس کے سامنے جمع ہو گیا، جیسے وہاں اور کوئی روٹی بیچنے والا نہ ہو۔ میں یہ سب دیکھ رہا تھا اور یقین نہیں کر پا رہا تھا کہ یہ سب کیسے ہو رہا ہے۔ میں نے انتظار کیا یہاں تک کہ اس نے ساری روٹیاں بیچ دیں۔ پھر میں اس کے قریب گیا اور کہا: "ماشاءاللہ، تم نے ساری روٹیاں بیچ دیں۔" اس نے جواب دیا: "الحمدللہ، یہ اللہ کا فضل ہے۔ کیا تم روٹی لینا چاہتے ہو؟" میں نے کہا: "ہاں، لیکن اب تمہارے پاس مزید روٹی نہیں ہے۔" اس نے کہا: "میں تمہیں اپنی حصہ کی روٹی دے دوں گا۔" میں نے کہا: "کوئی بات نہیں، میں کہیں اور سے خرید لوں گا۔" پھر میں نے اسے اپنے گھر تک چھوڑنے کی پیشکش کی۔ اس نے مجھے بتایا کہ وہ کسی کا انتظار کر رہا ہے۔ میں نے کہا: "ٹھیک ہے، ہم ساتھ انتظار کر لیتے ہیں۔" تھوڑی دیر بعد وہی بچی دوبارہ آئی۔ اس آدمی نے کچھ پیسے اس کے ہاتھ میں دیے اور اسے فوراً گھر جانے کو کہا۔ پھر ہم گاڑی میں سوار ہو گئے اور چلنے لگے۔ میں نے اس سے پوچھا: "اس بچی کی کیا کہانی ہے؟" اس نے جواب دیا: "یہ میرے دوست کی بیٹی ہے جو میرے ساتھ روٹی بیچتا تھا، لیکن وہ بیمار ہوا اور فوت ہو گیا، اور اپنے پیچھے صرف عورتوں پر مشتمل ایک فیملی چھوڑ گیا۔ ایک دن میں نے اس بچی اور اس کی بڑی بہن کو کوڑے کے ڈھیر میں کھانا تلاش کرتے ہوئے دیکھا۔ میں نے ان سے پوچھا کہ وہ کیا کر رہے ہیں، تو انہوں نے بتایا کہ وہ دو دن سے بھوکے ہیں اور کوڑے سے بچا ہوا کھانا اکٹھا کر رہے ہیں۔ تب میں نے فیصلہ کیا کہ میں اپنی استطاعت کے مطابق ان کی کفالت کروں گا۔" آدمی کہتا ہے: "میں بہت متاثر ہوا اور اپنی آنسوؤں کو روک نہیں سکا۔ تب میں نے جانا کہ اس کی خوشی کا راز کیا تھا۔" کہانی ختم ہوئی، لیکن سبق ابھی ختم نہیں ہوئے۔ آپ کے آس پڑوس میں آپ کے قریبی، رشتہ دار وغیرہ جو حالات میں ہے، قرض ہو یا کثیر اہل و عیال ہو آمدنی کم اور خرچ زیادہ ہو، آپ حضرات اپنے آس پاس ضرور نظر دوڑائیں کہ کہیں کوئی بھوکا پیاسا یا حالات کا مارا آپکی مدد کا منتظر ھو۔۔۔

ارے بھائی!

اگر آپ ہزاروں کتابیں، نعتیں، تصاویر، ویڈیوز، اخبار، مضامین، قبلہ نما، اوقات نماز، اسلامک گھڑی اور بہت کچھ آسانی کے ساتھ حاصل کرنا چاہتے ہیں تو بس ہمارے Islamic Tube ایپ کو پلے سٹور سے انسٹال کرو، اور بالکل مفت اور آسانی کے ساتھ اسلامک مواد حاصل کرو

ڈاؤن لوڈ کریں
Image 1

حضرت مولانا اشرف علی صاحب تھانوی نور اللہ مرقدہ خود اپنی نظر میں

حضرت مولانا اشرف علی صاحب تھانوی نور اللہ مرقدہ خود اپنی نظر میں

حکیم الامت حضرت مولانا اشرف علی تھانوی رحمہ اللہ سے تھانہ بھون میں متعینہ ایک پولیس افسر نے بیعت کی درخواست کی، جس کے جواب میں آپ نے انہیں اپنا تعارف کراتے ہوئے لکھا: میں ایک خشک طالب علم ہوں، اس زمانہ میں جن چیزوں کو لوازم درویشی سمجھا جاتا ہے جیسے میلاد شریف، گیارہویں، عرس، نیاز، فاتحہ، قوالی و تصرف ومثل ذالک۔ میں ان سب سے محروم ہوں اور اپنے دوستوں کو بھی اس خشک طریقے پر رکھنا پسند کرتا ہوں۔ میں نہ صاحب کرامت ہوں اور نہ صاحب کشف، نہ صاحب تصرف، نہ عامل، صرف اللہ اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے احکام پر مطلع کرتا رہتا ہوں، اپنے دوستوں سے کسی قسم کا تکلف نہیں کرتا، نہ اپنی حالت، نہ اپنی کوئی تعلیم، نہ امور دینیہ کے متعلق کوئی مشورہ چھپانا چاہتا ہوں عمل کرنے پر کسی کو مجبور نہیں کرتا، البتہ عمل کرتا ہوا دیکھ کر خوش اور عمل سے دور دیکھ کر رنجیدہ ضرور ہوتا ہوں۔ میں کسی سے نہ کوئی فرمائش کرتا ہوں، نہ کسی کی سفارش، اس لئے بعض اہل رائے مجھ کو خشک کہتے ہیں، میرا مذاق یہ ہے کہ ایک کو دوسرے کی رعایت سے کوئی اذیت نہ دوں، خواہ حرفی ہی اذیت ہو ۔ سب سے زیادہ اہتمام مجھ کو اپنے لئے اور اپنے دوستوں کیلئے اس امر کا ہے کہ کسی کو کسی قسم کی اذیت نہ پہنچائی جائے خواہ بدنی ہو جیسے مار پیٹ، خواہ مالی ہو جیسے کسی کا حق مار لینا یا ناحق کوئی چیز لے لینا، خواہ آبرو کے متعلق ہو جیسے کسی کی تحقیر، کسی کی غیبت، خواہ نفسانی ہو جیسے کسی کو کسی تشویش میں ڈالنا یا کوئی ناگوار رنجیدہ معاملہ کرنا اور اگر اپنی غلطی سے ایسی بات ہو جائے تو معافی چاہنے سے عار نہ کرنا۔ مجھے انکا اس قدر اہتمام ہے کہ کسی کی وضع خلاف شرع دیکھ کر تو صرف شکایت ہوتی ہے مگر ان امور میں کو تاہی دیکھ کر بے حد صدمہ ہوتا ہے اور دعا کرتا ہوں کہ اللہ اس سے نجات دے۔