مقصد زندگی کیا ہے؟ دنیا میں موجود ہر شی کا کوئ نہ کوئ مقصد ہے بلا مقصد کچھ بھی نہیں کیونکہ بلا مقصد عمل کو فعل عبث کہتے ہیں۔ اگر ہم کوئ منزل طے کرتے ہیں تو مقصد بھی طے کرتے ہیں ہم کہاں جا رہے ہیں ؟ کیوں جارہیں؟ااگر ایسا نہ کریں تو لوگ ہمیں بیوقوف کہیں گے ۔ ایسے ہی اللہ رب العزت نے اپنی بندگی کے لئے پیدا کیا اور احکامات دئیے ہیں تاکہ ہم اس کے مطابق عمل کرکے اللہ کو جو خالق کائنات ہے اس کو راضی کر لیں اور آخرت کے وبال سے بچ جائیں ۔ عبادت کے لئے صرف پیدا یہ تو رہبانیت ہے جو امت محمدیہ صلی اللہ علیہِ وسلم میں نہیں ہے ۔ تو عبادت کا مفہوم یہ ہیکہ ہر وہ راستہ جس سے اللہ ورسول راضی ہوں وہ عبادت کہلا یگا یعنی دنیاوی کوئ بھی عمل جیسے نکاح اگر سنت و اللہ کے منشاء کے مطابق ہے تو وہ عمل عبادت بن جائیگا ۔دوسرا مطلب ھیکہ اللہ کی تخلیق کا مقصد یہ ہیکہ بندوں کو میری معرفت حاصل ہووہ کیسے ؟ تخلیقات الہی میں تدبر و تفکر کے بعد ۔ جب ہمیں اپنے خالق کی معرفت حاصل ہو جائیگی تو عبادت ہمارا مقصد اصلی بن جائیگا اور دنیا وآ خرت میں سرخ روئی حاصل ہوگی ۔ اللہ ہم سب کو اپنی مرضی کے مطابق زندگی گزارنے کی توفیق عطا کریں۔آمین۔ از قلم مولانا ندیم قاسمي

ارے بھائی!

اگر آپ ہزاروں کتابیں، نعتیں، تصاویر، ویڈیوز، اخبار، مضامین، قبلہ نما، اوقات نماز، اسلامک گھڑی اور بہت کچھ آسانی کے ساتھ حاصل کرنا چاہتے ہیں تو بس ہمارے Islamic Tube ایپ کو پلے سٹور سے انسٹال کرو، اور بالکل مفت اور آسانی کے ساتھ اسلامک مواد حاصل کرو

ڈاؤن لوڈ کریں
Image 1

پیدل چلتے ہوئے مطالعہ

پیدل چلتے ہوئے مطالعہ

اسلاف کے ہاں شوقِ مطالعہ اور اہمیتِ وقت کا یہ عالم تھا کہ پیدل چلتے ہوئے بھی کتاب کا مطالعہ جاری رہتا۔ ابن الآبنوسی کہتے ہیں کہ علامہ خطیب بغدادیؒ پیدل چل رہے ہوتے تو ہاتھ میں کتاب لیے اس کا مطالعہ کر رہے ہوتے۔ (سیر اعلام النبلاء، ١٨: ٢٨١) نحو کے ایک بے بدل عالم علامہ احمد بن یحیٰ جو ثعلب کے نام سے مشہور ہیں، ان کو تو یہ شوق بہت ہی مہنگا پڑا۔ یہ مطالعے کے رسیا تھے اور ثقلِ سماعت کا شکار تھے، اس لیے اونچا سنائی دیتا تھا۔ ایک مرتبہ جمعے کے دن عصر پڑھ کر جامع مسجد سے نکلے تو حسبِ معمول کتاب کھولی اور پیدل چلتے ہوئے پڑھنے میں مگن ہو گئے۔ راستے میں گھوڑے نے دولتی جھاڑ دی؛ پاس ہی ایک گہرا کھڈا تھا، یہ اس میں جا گرے۔ ان کو دماغ پہ چوٹ آئی؛ اسی حال میں گھر لے جایا گیا مگر اگلے روز یہ عاشق کتب انتقال کر گئے! (ابن خلکان، وفیات الاعیان، ١: ١٠٤) [انتخاب و ترجمانی: طاہر اسلام عسکری]