تلخ حقیقت سبق آموز بات: ایک چوہے نے ہیرے کو نگل لیا اور ہیرا کے مالک نے چوہے کو مارنے کے لئے ایک ایسے شخص سے رابطہ کیا۔ جو بڑا مشہور شکاری تھا، جب شکاری آیا تو ہیرے کے مالک نے اسے بتایا کہ ایک چوہے نے میرا ہیرا نگل لیا ہے۔آپ میرا ہیرا ڈھونڈ دو۔میں آپکو انعام دوں گا۔ شکاری جب چوہے کو مارنے کے لئے پہنچا تو وہاں دیکھا کہ ایک ہزار سے زیادہ چوہے اکھٹے تھے۔ مگر ایک چوہا سب سے الگ اور اونچا بیٹھا ہوا تھا۔ شکاری نے سب سے الگ بیٹھے چوہے کو دیکھا اور اسے مار ڈالا اور مالکان حیران تھے کہ یہ وہی چوہا تھا جس نے ہیرا نگل لیا تھا؟ ہیرے کے مالک نے پوچھا آپ کو کیسے پتہ چلا کہ یہ وہی چوہا تھا۔ شکاری نے جواب دیا بہت آسان ہے۔ جب کم ظرف امیر ہو جاتے ہیں یا معاشرے میں کوئی مقام پاتے ہیں تو وہ دوسروں کے ساتھ میل ملاپ کرنا چھوڑ دیتے ہیں۔

ارے بھائی!

اگر آپ ہزاروں کتابیں، نعتیں، تصاویر، ویڈیوز، اخبار، مضامین، قبلہ نما، اوقات نماز، اسلامک گھڑی اور بہت کچھ آسانی کے ساتھ حاصل کرنا چاہتے ہیں تو بس ہمارے Islamic Tube ایپ کو پلے سٹور سے انسٹال کرو، اور بالکل مفت اور آسانی کے ساتھ اسلامک مواد حاصل کرو

ڈاؤن لوڈ کریں
Image 1

حضرت تھانوی رحمۃ اللہ علیہ کے رجوع کی چند مثالیں

حضرت تھانوی رحمۃ اللہ علیہ کے رجوع کی چند مثالیں

بہشتی زیور اور تعلیم الدین کے بعض مقامات کی اصلاح: (۱) بہشتی زیور میں عشاء کے بعد چار سنتیں لکھ دی ہیں، صحیح یہ ہے کہ دو سنت ہیں اور دو نفل ۔ (۲) بہشتی زیور میں ایام بیض ۱۲، ۱۳، ۱۴ تاریخوں کو لکھ دیا ہے، صحیح ۱۳، ۱۴ ، ۱۵ ہیں۔ (۳) تعلیم الدین اور بہشتی زیور میں تیجے، چالیسویں وغیرہ کے بدعت ہونے کے ذکر میں یہ لفظ لکھا گیا ہے "ضروری سمجھ کر کرنا" اس سے شبہ ہو سکتا ہے کہ شاید غیر ضروری سمجھ کر کرنا جائز ہو یہ قید واقعی تھی ، احترازی نہ تھی، حکم یہ ہے کہ خواہ کسی طرح سے کرے بدعت ہے۔ (۴) تعلیم الدین میں قبروں پر چراغ جلانے کے بارے میں یہ لفظ لکھا گیا ہے: ” کثرت سے چراغ جلانا “ اس میں بھی مثل مقام سوم کے سمجھنا چاہیے، حکم یہ ہے کہ ایک چراغ رکھنا بھی بدعت ہے۔ احباب سے دعا کی استدعا ہے کہ حق تعالیٰ میری خطا و عمد کو معاف فرمائے اور میری تقریرات و تحریرات کو اضلال کا سبب نہ بنائیں۔ (اشرف السوانح : ۱۳۵/۳، بوادر النوادر : ۴۲۸)