*مُلحِدْجاوید اختر کو ہی دیکھ لیں...* ان کے پردادا، *فضل حق خیر آبادی* 1857 کی جنگ آزادی کے مجاہد، شیخ الاسلام، قرآن کے عالم، جنہوں نے انگریز کے خلاف جہاد کا فتویٰ دیا. ان کے دادا، *مضطر خیر آبادی* بڑے شاعر اور عالم، دینی روایت کے وارث. ان کے والد، *جانثار اختر* عظیم شاعر، مگر ... سوشلسٹ فکر میں ڈوب گئے، یعنی مذہب میں کمزور ہوتے گیے. اور پھر *جاوید اختر* ایک مشہور شاعر، مگر مُلحِد ، جو خدا کے وجود ہی کا انکار کرتا ہے. دیکھا؟؟؟ *چَند نَسلوں کے اندر ایک خاندان کہاں سے کہاں جا پہنچا.* دین سے وَفاداری کرنے والے عُلماء کا خاندان، ایک اِلحاد پر فَخر کرنے والے شَخص پر خَتم ہوا. سوچئے ... اگر ہم اپنی نَسل کو دین سے جوڑنے کے بجائے سکْرِین، مَغربی فَلسفہ اور نَفْس کی غُلامی کے حوالے کردیں گے... تو ہماری آئندہ نسلوں کا اَنجام کیا ہوگا؟؟؟ آج اگر ہمارے گھر میں اِیمان کی شَمَع ہے بھی؛ تو کَل ہَمارے بیٹے (نَعُوذُبِاللہ مِنْ ذالک) جاوید اختر سے بھی آگے بڑھ کر شایَدْ کُھلَّم کُھلّا دین کا مَذاق اُڑائیں گے... اور پھر... ہماری اَولاد کی اَولاد (نَعُوذُبِاللہ مِنْ ذالک) خُدا کو ماننے کا نام بھی جُرم سَمجھے گیں...! *تَفَکَّروا وَ تَدَبَّرُوا*

ارے بھائی!

اگر آپ ہزاروں کتابیں، نعتیں، تصاویر، ویڈیوز، اخبار، مضامین، قبلہ نما، اوقات نماز، اسلامک گھڑی اور بہت کچھ آسانی کے ساتھ حاصل کرنا چاہتے ہیں تو بس ہمارے Islamic Tube ایپ کو پلے سٹور سے انسٹال کرو، اور بالکل مفت اور آسانی کے ساتھ اسلامک مواد حاصل کرو

ڈاؤن لوڈ کریں
Image 1

یہودی کے شاگرد: ایک طنزیہ حکایت

یہودی کے شاگرد: ایک طنزیہ حکایت

‏ایک یہودی نے روس چھوڑ کر اسرائیل میں رہائش اختیار کرنے کی اجازت لی اور روس سے روانہ ہوا۔ ائرپورٹ پر اس کے سامان کی تلاشی لی گئی تو لینن کا ایک مجسمہ بر آمد ہوا۔ انسپکٹر نے پوچھا: یہ کیا ہے؟ یہودی نے کہا: جناب آپ نے غلط سوال کیا ہے! آپ کو کہنا چاہیے تھا یہ کون ہے؟ یہ لینن ہے جس نے اشتراکیت کے ذریعے روسی قوم کی خدمت کی میں ان کا بڑا فین ہوں اس لیے یادگار کے طور پر ان کا مجسمہ اپنے ساتھ لے جارہا ہوں۔ روسی انسپکٹر بڑا متاثرا ہوا اور کہا: جاو ٹھیک ہے۔ یہودی ماسکو سے تل ابیب ائرپورٹ پر اترا تو ان کے سامان کی تلاشی لی گئی اور وہ مجسمہ بر آمد ہوا تو انسپکٹر نے پوچھا : یہ کیا ہے؟ یہودی: آپ کا سوال غلط ہے آپ کو کہنا چاہیے تھا کہ یہ کون ہے؟ یہ مجرم لینن ہے یہی وہ پاگل ہے جس کی وجہ سے میں روس چھوڑنے پر مجبور ہوا! اس کا مجسمہ میں یادگار کے طور پر اپنے ساتھ لایا ہوں تاکہ صبح و شام اس کو دیکھ کر اس پر لعنت بھیج سکوں! اسرائیلی انسپکٹر متاثرا ہوا اور کہا: جاؤ ٹھیک ہے۔ یہودی اپنے گھر پہنچا اور مجسمہ نکال کر گھر کے ایک کونے میں سنبھال کر رکھ دیا۔ خیریت سے اسرئیل پہنچنے پر اس کے رشتہ دار ملنے آئے جن میں اس کا ایک بھتیجا بھی تھا۔ بولا: انکل یہ کون ہے؟ یہودی بولا تمہارا سوال غلط ہے تمہیں یہ کہنا چاہیے تھا کہ یہ کیا ہے؟ یہ دس کلو سونا ہے اس کو بغیر کسٹم کے لانا تھا میں نے اس کا مجسمہ بنوایا اور بغیر کسی ٹیکس اور کسٹم کے لانے میں کامیاب ہوا۔ ہمارے سیاستدان اسی یہودی کے شاگرد ہیں۔ سبق چالاکی اور دھوکہ: یہودی نے حالات کے مطابق جوابات دے کر سب کو بیوقوف بنایا، جو سیاستدانوں کی چالاکی کی عکاسی کرتا ہے۔ سماجی تنقید: کہانی طنزیہ انداز میں بتاتی ہے کہ سیاستدان بھی اسی طرح حالات کے مطابق اپنی بات بدلتے ہیں۔