”پہلے وقتوں میں طالب علم استاد کو سنتا تھا کہ علم حاصل کرے، اور علم حاصل کرتا تھا کہ عمل کرے، اور اللہ کے دین کے دین میں تفقہ حاصل کرتا تھا کہ نفع اٹھائے اور نفع پہنچائے۔ اب مگر حال یہ ہے کہ طالب علم سنتا ہے کہ زیادہ سے زیادہ معلومات جمع کرے، اور جمع کرتا ہے کہ اس کا چرچا ہو، اور علم کو حفظ کرتا ہے کہ دوسروں کو نیچا دکھائے اور فخر کرے۔“
(الاختلاف في اللفظ لابن قتيبة : ١٨)