شمیط بن عجلان رحمہ اللّٰہ دنیا پرستوں کے اوصاف بتلاتے ہوئے کہتے ہیں:
"وہ ہمیشہ پیٹ کا پجاری اورذہنی فراست سے عاری ہوتا ہے ،
بطن و فرج کے تقاضوں کو پورا کرنے کے علاوہ باقی تمام تقاضوں سے بے فکر رہتاہے،
وہ ہر پل اسی بارے میں سوچتا ہے کہ کب صبح ہو اور میں کھانے پینے اور دیگر تماشوں میں مشغول ہوجاؤں،
اور کب رات ہو کہ میں اپنی خوابگاہ میں جا آرام کروں،
وہ رات کی مردہ لاش اور دن کا بےکار ہوتا ہے"
[الزهد للإمام أحمد]