اگر زندگی میں کبھی شریکِ حیات چننے کا موقع ملے تو صرف چہرے ک...
Ummah Post
27 February, 2026

اگر زندگی میں کبھی شریکِ حیات چننے کا موقع ملے تو صرف چہرے کی چمک دمک کو معیار نہ بنانا۔

حسن آنکھوں کو بھا لیتا ہے، مگر مزاج اور کردار ہی زندگی نبھاتے ہیں۔

ایسے شخص کو ترجیح دینا جو سمجھ دار ہو، جسے صحیح اور غلط کی پہچان ہو۔

جو یہ جانتا ہو کہ آپ کو کن باتوں سے خوشی ملتی ہے اور کن چیزوں سے دل دکھتا ہے، اور وہ اپنی عادتوں کو بہتر بنانے کی کوشش بھی کرے۔

وہ جو دین کو صرف لفظوں میں نہیں بلکہ عمل میں بھی زندہ رکھتا ہو۔

جو نماز، قرآن اور سنت کی طرف خود بھی سنجیدہ ہو اور نرمی کے ساتھ آپ کو بھی اس راستے کی یاد دہانی کراتا رہے۔

وہ جو تعلق کی قدر جانتا ہو، نگاہ اور دل دونوں کی حفاظت کرتا ہو۔

جس کا کردار مضبوط ہو، جسے لوگوں کی باتیں بہکا نہ سکیں، اور جو وفاداری کو بوجھ نہیں بلکہ اپنی ذمہ داری سمجھے۔

اصل بات یہی ہے کہ اگر کبھی فیصلہ آپ کے ہاتھ میں ہو تو ظاہری چیزوں سے آگے دیکھنا۔

کیونکہ اختیار ہو تو سوچ سمجھ کر چناؤ کیا جاتا ہے، اور جب اختیار نہ ہو تو انسان اکثر دل میں بہت کچھ لے کر بھی خالی رہ جاتا ہے

Share this article
بابا جی کی چار نصیحتیں
مضامین

بابا جی کی چار نصیحتیں

جن دنوں میں مدرسہ میں پڑھتاتھا۔ ایک بابا جی زیادہ تر وقت مسجد میں گزارتے تھے۔ ہمہ وقت کسی ناکسی عبادت میں مشغول رہتے۔ یہی موسم تھا سخت سردی تھی۔ میں نے دیکھا وہ ٹھنڈے یخ پانی سے وضو کررہے تھے۔ اور مسکرا رہے تھے۔ میں پہلے تو انکی عجب مسکراہٹ کے سحر میں گرفتار رہا۔ جب انکی نگاہ مجھ پر پڑی تو میں چونک...