مولانا صاحب! میں قرآن کو سمجھنے کی کوشش کروں یا زیادہ سے زیادہ ختم کرنے پر دھیان دوں؟
مولانا نے نرمی سے فرمایا بیٹا، رمضان میں بس ایک سورت کو خوب سمجھنے کی نیت کرو اور ساتھ ساتھ قرآن ختم کرنے میں بھی حصہ لو، تاکہ تمہیں دونوں کا ثواب ملے تدبر کا بھی اور مکمل تلاوت کا بھی۔ اس طرح رمضان بغیر ختمِ قرآن کے بھی نہیں گزرے گا اور تم قرآن کو سمجھنے کی برکت سے بھی محروم نہیں رہو گے
"باقی سورتوں کو سال کے باقی مہینوں میں سمجھنے کا ارادہ کر لو۔ اور اگر زندگی نے وفا نہ کی، تو تمہاری نیت کے مطابق اللہ تمہیں پورے قرآن کے تدبر کا اجر عطا فرما دے گا
منقول۔