🌸 *ایک دیہاتی کے پچیس(25) سوالات* *از* *نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے جوابات* میں امیر بننا چاہتا ہوں؟ فرمایا: قناعت اختیار کرو، امیر ہو جاؤ گے۔ میں سب سے بڑا عالم بننا چاہتا ہوں؟ فرمایا: تقویٰ اختیار کرو، عالم بن جاؤ گے۔ عزت والا بننا چاہتا ہوں؟ فرمایا: مخلوق کے سامنے ہاتھ پھیلانا بند کر دو، باعزت بن جاؤ گے۔ اچھا آدمی بننا چاہتا ہوں؟ فرمایا: لوگوں کو نفع پہنچاؤ۔ عادل بننا چاہتا ہوں؟ فرمایا: جسے اپنے لیے اچھا سمجھتے ہو، وہی دوسروں کے لیے پسند کرو۔ طاقتور بننا چاہتا ہوں؟ فرمایا: اللہ پر توکل (بھروسہ) کرو۔ اللہ کے دربار میں خاص درجہ چاہتا ہوں؟ فرمایا: کثرت سے ذکر کرو۔ رزق کی کشادگی چاہتا ہوں؟ فرمایا: کثرت سے استغفار کرو۔ دعاؤں کی قبولیت چاہتا ہوں؟ فرمایا: ہمیشہ باوضو رہو۔ ایمان کی تکمیل چاہتا ہوں؟ فرمایا: اچھے اخلاق اختیار کرو۔ قیامت کے روز اللہ سے گناہوں سے پاک ہو کر ملنا چاہتا ہوں؟ فرمایا: جنابت کے بعد فوراً غسل کیا کرو۔ گناہوں سے بچنا چاہتا ہوں؟ فرمایا: حرام نہ کھاؤ۔ قیامت کے روز نور میں اٹھنا چاہتا ہوں؟ فرمایا: کثرت سے استغفار کرو۔ میں چاہتا ہوں کہ اللہ مجھ پر رحم کرے؟ فرمایا: ظلم کرنا چھوڑ دو۔ میں چاہتا ہوں کہ اللہ میری پردہ پوشی کرے؟ فرمایا: اللہ کے بندوں پر رحم کرو۔ رسوائی سے بچنا چاہتا ہوں؟ فرمایا: لوگوں کی پردہ پوشی کرو۔ میں چاہتا ہوں کہ اللہ اور اس کے رسول کے ہاں محبوب بن جاؤں؟ فرمایا: جو اللہ اور اس کے رسول کو محبوب ہے، اسے اپنا محبوب بنا لو۔ زنا سے بچنا چاہتا ہوں؟ فرمایا: نگاہوں کی حفاظت کرو۔ اللہ کا فرمانبردار بننا چاہتا ہوں؟ فرمایا: فرائض کا اہتمام کرو۔ احسان کرنے والا بننا چاہتا ہوں؟ فرمایا: اللہ کی اس طرح عبادت کرو جیسے تم اسے دیکھ رہے ہو، یا وہ تمہیں دیکھ رہا ہے۔ یا رسول اللہ! کون سی چیز گناہوں سے معافی دلواتی ہے؟ فرمایا: آنسو، عاجزی اور بیماری۔ کون سی چیز دوزخ کی آگ کو ٹھنڈا کرتی ہے؟ فرمایا: صدقہ اور صلہ رحمی۔ اللہ کے غصے کو کیا چیز ٹھنڈا کرتی ہے؟ فرمایا: دنیا کی مصیبتوں پر صبر۔ سب سے بڑی برائی کیا ہے؟ فرمایا: برے اخلاق اور تکبر۔ سب سے بڑی اچھائی کیا ہے؟ فرمایا: اچھے اخلاق، تواضع اور صبر۔ اللہ کے عذاب سے بچنا چاہتا ہوں؟ فرمایا: لوگوں پر غصہ کرنا چھوڑ دو۔ (کنز العمال، مسند احمد) 🌼🌸♥️🌹🤲

ارے بھائی!

اگر آپ ہزاروں کتابیں، نعتیں، تصاویر، ویڈیوز، اخبار، مضامین، قبلہ نما، اوقات نماز، اسلامک گھڑی اور بہت کچھ آسانی کے ساتھ حاصل کرنا چاہتے ہیں تو بس ہمارے Islamic Tube ایپ کو پلے سٹور سے انسٹال کرو، اور بالکل مفت اور آسانی کے ساتھ اسلامک مواد حاصل کرو

ڈاؤن لوڈ کریں
Image 1

حضرت حسینؓ کا ایک دیہاتی سے سبق آموز مکالمہ

حضرت حسینؓ کا ایک دیہاتی سے سبق آموز مکالمہ

ایک دیہاتی حضرت حسینؓ بن علیؓ کے پاس گیا ، ان کو سلام کیا اور ان سے حاجت کا سوال کیا ، اور اس نے کہا میں نے آپ کے نانا سے سنا ہے ، انہوں نے فرمایا کہ جب تم کسی سے حاجت کا سوال کرو تو وہ چار (صفات والے آدمیوں) میں سے ایک سے مانگو نمبر ۱ : یا تو وہ شریف عربی ہو نمبر ۲ : یا سخی مددگار ہو نمبر ۳ : یا حامل قرآن ہو نمبر ۴ : یا خوبصورت چہرے والا ہو بہر حال عرب ہونا ، تو وہ آپ کو آپ کے نانا سے شرف حاصل ہے اور سخاوت ، تو وہ آپ سے اور آپ کی سیرت سے شروع ہوئی ہے اور قرآن ، تو وہ آپ کے گھروں میں نازل ہوا ہے ۔ اور خوبصورت چہرہ ، تو میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سنا ، انہوں نے فرمایا کہ جب تم مجھے دیکھنے کا ارادہ کرو ، تو حسن اور حسین کی طرف دیکھو ۔ (یعنی بقول حضور کے آپ میں یہ چاروں صفات پائی جاتی ہیں ۔ ) حضرت حسینؓ نے فرمایا ، تیری کیا حاجت ہے ؟ تو اس نے وہ حاجت زمین پر لکھ دی ۔ تو حضرت حسینؓ نے فرمایا میں نے اپنے والد حضرت علیؓ سے سنا ہے انہوں نے فرمایا کہ ہر آدمی کی قیمت اتنی ہے جتنا وہ احسان کرے ، اور میں نے اپنے نانا سے سنا ، انہوں نے فرمایا نیکی معرفت کے بقدر ہوتی ہے ۔ لہٰذا میں تجھ سے تین مسائل پوچھوں گا ، اگر تو نے ایک کا جواب اچھا دیا تو جو کچھ میرے پاس ہے اس کا ایک ثلث تیرا ہو گا اور اگر تو نے دو کا جواب دیا تو تیرے لئے میرے پاس موجود کا دو ثلث ہو گا ، اور اگر تو نے تینوں کا جواب دیا تو میرے پاس موجود سب تیرا ہو گا ، اور حال یہ ہے کہ میری طرف عراق سے ایک مہر زدہ تھیلی (ہدیہ) بھجوائی گئی ہے۔ اس دیہاتی نے کہا کہ پوچھیے ، ولا حول ولا قوۃ الا باللہ ۔ نمبر ۱ : حضرت حسین نے پوچھا ، اعمال میں سے افضل کیا ہے ؟ اعرابی نے کہا ، اللہ پر ایمان لانا ۔ نمبر ۲ : حضرت حسین نے پوچھا ، بندہ کی ہلاکت سے نجات کیا ہے ؟ اعرابی نے کہا ، اللہ پر بھروسہ کرنا ۔ نمبر ۳ : حضرت حسین نے پوچھا ، کونسی چیز آدمی کو زینت بخشتی ہے ؟ دیہاتی نے کہا ، علم جس کے ساتھ بردباری ہو ۔ نمبر ۴ : حضرت حسین نے پوچھا ، اگر یہ اس سے خطأً چلی جائے تو؟ اعرابی نے کہا پھر مال ( سے تلافی ہو سکتی ہے ) جس کے ساتھ سخاوت ہو۔ حضرت حسین نے پوچھا ، اگر یہ بھی اس سے خطأً چلی جائے تو ؟ دیہاتی نے کہا ، پھر فقر ہے جس کے ساتھ صبر ہو ۔ حضرت حسین نے پوچھا اگر یہ بھی اس سے خطأً چلی جائے تو ؟ اعرابی نے کہا ، پھر تو آسمان سے اتاری جانے والی بجلی ہی ہے جو اس کو جلا کر رکھ دے گی ۔ (یعنی پھر اس کے بچنے کی کوئی سبیل نہیں ہے ۔ ) حضرت حسین اس کے صحیح جوابات پر ہنسنے لگے اور وہ تھیلی اس کی طرف پھینک دی ۔ ترجمہ : محمد فیاض خان سواتی التفسیر الکبیر عربی ج ۲ ص ۱۹۸ طبع مصر ___________📝📝___________ منقول۔ انتخاب : اسلامک ٹیوب پرو ایپ