👈 باوفا بیوی کا حیران کر دینے والا واقعہ ! ایک شخص کے گھر والوں نے اپنی پسند کی شادی کی وہ آدمی اس رشتے پر خوش نہیں تھا۔ پہلے دن سے ہی اس نے اپنی بیوی کو بیوی نہیں سمجھا‘ بلکہ صرف اسے اپنی نوکرانی سمجھتا تھا‘ کبھی اس نے اپنی بیوی سے ہنسی مذاق نہیں کیا‘ بس ہر وقت وہ اسے صرف رعب کے ساتھ کام بتادیتا اور بیوی بھی ایسی صابر تھی کہ حکم سنتے ہی اس کام میں لگ جاتی تھی اور صبر کرکے اپنے خدمت کے کاموں میں لگے رہنا اس کا شیوا تھا‘ بیوی کا ظالم خاوند تھوڑی سی غلطی اور کوتاہی پر اسے بہت مارتا اور پیٹتا تھا۔ بیوی کو بالکل یہ حق حاصل نہیں تھا کہ وہ کبھی کوئی بات اس سے پوچھ سکے۔ آخر کار شوہر نے سوچا کہ کیوں نہ اس سے ہمیشہ کیلئےجان چھڑالی جائے اب وہ اپنی وفادار بیوی کی موت کےلئے اپنے دوستوں کے پاس جا کر اس کو مارنے کی طرح طرح کی ترکیبیں دریافت کرنے لگا۔ آخر ایک ترکیب پر اتفاق رائے ہوا کہ مٹھائی بنوائی جائے اور اس میں زہر ملا کر بیوی کو کھلا دیا جائے اس طرح اس کا کام تمام ہوجائے گا۔ خاوند بیوی کے پاس وہ زہر آلود مٹھائی لایا اور بڑی محبت سے کہنے لگا اسے کھا لو۔ بیوی اس کی زندگی میں پہلی دفعہ اتنی محبت دیکھ کر بہت خوش اور حیرت زدہ ہوئی اور اسے یہ بھی یقین ہوگیا تھا کہ اس مٹھائی میں زہر ہے‘خاوند نے کہا اسے کھا لو‘ بیوی نے تین دفعہ پوچھا کھالوں‘ اس ظالم نے بھی تینوں دفعہ یہی کہا کہ کھالو ‘ اس بے مثال اطاعت شعار بیوی نے اس زہر آلود مٹھائی کو خاوند کا حکم سمجھ کر کھالیا۔ خیر وہ ظالم خاوند باہر چلا گیا اور دوستوں کے ساتھ جاکر بیوی کی موت کی خوشی کے جشن منانے لگا اور اس کی موت کی خبر کے سننے کا انتظار کرنے لگا کہ ابھی اس کی موت کی خبر آئیگی۔ وہ یہ سوچ ہی رہا تھا اور اندر اندر خوش بھی تھا‘ اتنے میں ایک آدمی بھاگتا ہوا آیا اور کہنے لگا کہ جلدی گھر چلو تمہاری بیوی کی آخری سانسیں ہیں اور وہ بار بار تمہارا نام لے رہی ہے ‘جب یہ ظالم خاوند گھر پہنچا تو بیوی سامنے پڑی تھی منہ سے جھاگ بہہ رہی زندگی موت کی جنگ لڑ رہی تھی‘ جب یہ قریب گیا تو بیوی جس میں اٹھنے کی سکت تک نہیں تھی اٹھی اور اس کے پاؤں میں پڑکر گڑ گڑاکر کہنے لگی کہ مجھے معاف کردینا کہ میں آپ کے قابل نہ بن سکی۔ قصور سارا میرا ہے میں آپ کی خدمت بھی نہ کر سکی اور اس کی طرف ٹکر ٹکر حسرت بھری نگاہوں سے دیکھنے لگی‘ اس کی آنکھوں میں آنسو تھے کہ رکنے کا نام ہی نہ لیتے تھے۔ اس کی یہ تابعداری‘ فرمانبرداری اور سچی محبت اور خلوص کو دیکھ کر اس آدمی کی آنکھیں کھل گئیں۔ بس جیسے ہی اللہ نے اس کے دل کی آنکھیں کھولیں وہ جلدی سے اپنی بیوی کو لے کر ہسپتال کی طرف بھاگا۔ ڈاکٹر نے جلدی سے اس نیک دل خاتون کا معدہ واش کیا‘ سارا زہر نکالا اور وہ آدمی بھی اللہ کے سامنے گڑگڑایا اور اپنی کوتاہیوں پر اللہ کے حضور معافی مانگی‘ اللہ کا کرم ہوا اس کی بیوی بچ گئی ۔وہ اپنی بیوی کو بڑے اعزازو اکرام کے ساتھ گھر لے آیا۔ دن بدلے بیوی کا صبر رنگ لایا‘ اب وہی خاوند جو دوسروں کے سامنے اسکی بے عزتی اور نوکرانیوں والا سلوک کرتا تھا نہایت اکرام واعزاز کرنے لگا۔ پہلے ان کے گھر جو بھی لوگ آتے تھے وہ ان کے سامنے بیوی کو نوکرانی کہتا تھا۔ اب وہی آکر اسے پوچھتے کہ تیری نوکرانی کہاں ہے؟ تو وہ کہتا ہے وہ سامنے میرے گھر کی ملکہ بیٹھی ہے اب میری زندگی بہت پرسکون ہے...!!!

ارے بھائی!

اگر آپ ہزاروں کتابیں، نعتیں، تصاویر، ویڈیوز، اخبار، مضامین، قبلہ نما، اوقات نماز، اسلامک گھڑی اور بہت کچھ آسانی کے ساتھ حاصل کرنا چاہتے ہیں تو بس ہمارے Islamic Tube ایپ کو پلے سٹور سے انسٹال کرو، اور بالکل مفت اور آسانی کے ساتھ اسلامک مواد حاصل کرو

ڈاؤن لوڈ کریں
Image 1

حضرت یوسف اور موسیٰ: قرآنی موازنہ اور تدبر

حضرت یوسف اور موسیٰ: قرآنی موازنہ اور تدبر

حضرت یوسف کو کنویں میں ڈالا گیا تو حضرت موسی کو بھی پانی میں ڈالا گیا۔ حضرت یوسف مصر میں تھے تو حضرت موسی بھی مصر میں تھے۔ حضرت یوسف نے محل میں زندگی گزاری تو حضرت موسی نے بھی فرعون کے محل میں پرورش پائی۔ حضرت یوسف کو اٹھانے والوں کی بھی اولاد نہیں تھی اور حضرت موسی کو اٹھانے والوں کی بھی اولاد نہیں تھی۔ حضرت یوسف کو اٹھانے والوں نے بھی کہا: عَسٰۤى اَنْ یَّنْفَعَنَاۤ اَوْ نَتَّخِذَهٗ وَلَدًا کچھ بعید نہیں کہ یہ ہمیں فائدہ پہنچائے یا ہم اسے بیٹا بنا لیں۔ (سورت یوسف: 21) حضرت موسی کو اٹھانے والوں نے بھی کہا: عَسٰۤى اَنْ یَّنْفَعَنَاۤ اَوْ نَتَّخِذَهٗ وَلَدًا کچھ بعید نہیں کہ یہ ہمیں فائدہ پہنچائے یا ہم اسے بیٹا بنا لیں۔ (سورت قصص:9) حضرت یوسف کو اٹھانے والوں کے بارے میں کہا: لَا یَعْلَمُوْنَ وہ جانتے نہیں حضرت موسی کو اٹھانے والوں کے بارے میں بھی کہا: لَا یَشعُرُون انہیں انجام کا پتہ نہیں۔ حضرت یوسف کے بھائیوں نے کہا: اقْتُلُوْا یُوْسُفَ یوسف کو قتل کر ڈالو۔ حضرت موسی کے بارے میں فرعون نے کہا: ذَرُوْنِیْۤ اَقْتُلْ مُوْسٰى مجھے چھوڑو تاکہ میں موسی کو قتل کر دوں۔ (سورت قصص:26) یوسف کے بھائیوں نے ایک چال چلی اور وہ ناکام ہوئی ۔ فَیَكِیْدُوْا لَكَ كَیْدً (اے یوسف!) وہ تیرے ساتھ کوئی چال چلیں گے۔ موسی کے خلاف بھی پرورش کرنے والوں نے چال چلی اور ناکام ہوئی: وَمَا كَيْدُ الْكَافِرِينَ إِلَّا فِي ضَلَالٍ اور کافروں کی چال کا انجام اس کے سوا کچھ نہیں کہ وہ مقصد تک نہ پہنچ سکیں۔ حضرت یوسف کو بھی جیل میں ایک دوست مل گیا تھا جو بعد میں جیل سے نکالنے کا سبب بنا۔ حضرت موسی کو بھی ایک دوست مل گیا تھا جو مصر سے مدین کی طرف نکالنے کا سبب بنا۔ حضرت یوسف کے بارے میں کہا کہ ہم نے انہیں حکمت اور علم عطا کیا تھا، حضرت موسی کے بارے میں بھی کہا کہ ہم نے انہیں حکمت اور علم عطا کیا تھا۔ حضرت یوسف کو حسن دے کر اور حضرت موسی کو طاقت دے کر آزمایا گیا۔ اتنی گہری مناسبت کے باوجود جب حضرت موسی نے فرعون اور اس کے ماننے والوں کو دعوت دی تو انہوں نے کہا: مَا سَمِعْنَا بِهٰذَا فِیْۤ اٰبَآئِنَا الْاَوَّلِیْنَ اور ہم نے یہ بات پچھلے باپ دادوں میں نہیں سنی۔ (قصص: 36) فرعونیوں کی اس بات سے ایسے معلوم ہوتا ہے جیسے وہ سچ بول رہے ہوں اور واقعی انہیں کچھ پتا نہ ہو اور ان کے باپ دادوں میں کوئی نبی نہ آیا ہو۔ لیکن سورت مومن کی آیت نمبر 34 میں اللہ تعالی فرماتے ہیں کہ موسی علیہ السلام پر ایمان لانے والے ایک شخص نے فرعونیوں سے کہا: وَ لَقَدْ جَآءَكُمْ یُوْسُفُ مِنْ قَبْلُ بِالْبَیِّنٰتِ فَمَا زِلْتُمْ فِیْ شَكٍّ مِّمَّا جَآءَكُمْ بِهٖؕ-حَتّٰۤى اِذَا هَلَكَ قُلْتُمْ لَنْ یَّبْعَثَ اللّٰهُ مِنْۢ بَعْدِهٖ رَسُوْلًاؕ-كَذٰلِكَ یُضِلُّ اللّٰهُ مَنْ هُوَ مُسْرِفٌ مُّرْتَابُ اور حقیقت یہ ہے کہ اس سے پہلے یوسف تمہارے(آباء و اجداد) کے پاس روشن دلیلیں لے کر آئے تھے۔ تب بھی تم ان کی لائی ہوئی باتوں کے متعلق شک میں پڑے رہے۔ پھر جب وہ وفات پا گئے تو تم نے کہا کہ ان کے بعد اللہ اب کوئی پیغمبر نہیں بھیجے گا۔ اسی طرح اللہ ان تمام لوگوں کو گمراہی میں ڈالے رکھتا ہے جو حد سے گذرے ہوئے، شکی ہوتے ہیں۔ سبحان اللہ ! کیا ہی خوبصورت انداز ہے! کیا ہی خوبصورت تدبیر ہے ہمارے رب کی! کیا ہی عمدہ طریقے سے قافلہ خیر کی کڑیاں جڑتی ہیں! وقت محدود ہے، قرآن سمندر ہے، موتی بے شمار ہیں، کیسے اور کس کس پہلو سے قرآن میں غور کریں؟ کاش دنیا میں اور کوئی مصروفیت نہ ہوتی، بس صرف رب کے کلام میں غور و فکر کرنا ہوتا۔ اے قرآن اتارنے والے کریم رب! جنت میں ہمیں ضرور اپنے کلام کے مفاہیم سمجھائیے گا تاکہ ہم اس بحر ناپیدا کنار سے سیراب ہو سکے۔ _____📝📝📝_____ منقول ۔ انتخاب اسلامک ٹیوب پرو ایپ ۔