کبھی کبھی مسکرا بھی لینا چاہیے....! 🥹 ایک شخص بازار میں صدا لگا رہا تھا، "گدھا لے لو! ایک اشرفی میں گدھا لے لو!" گدھا نہایت کمزور اور لاغر تھا۔ اتفاق سے اسی وقت بادشاہ اپنے وزیر کے ساتھ وہاں سے گزرا۔ بادشاہ اس گدھے کے پاس رکا اور پوچھا، "کتنے میں بیچ رہے ہو؟" تگڑا گاہک دیکھتے ہی مالک نے فوراً گدھے کے دام بڑھا دیئے۔ وہ فوراً بولا، "عالی جاہ! دو تھیلی سونے کی اشرفیاں قیمت ہے۔" بادشاہ حیران رہ گیا۔ "اتنا مہنگا گدھا؟ اس میں آخر ایسی کیا خاص بات ہے؟" گدھے والے نے ادب سے کہا، "حضور! جو اس پر بیٹھتا ہے اُسے مکہ اور مدینہ دکھائی دینے لگتے ہیں۔" بادشاہ کو یقین نہ آیا۔ "اگر تمہاری بات سچ ہوئی تو ہم پانچ تھیلی سونے کی اشرفیاں دیں گے۔ لیکن اگر جھوٹ نکلا تو تمہارا سر اُڑا دیا جائے گا۔" پھر اُس نے وزیر کو حکم دیا، "اس پر بیٹھو اور بتاؤ، کیا نظر آتا ہے؟" وزیر گدھے پر بیٹھنے ہی لگا تھا کہ گدھے والے نے اسے روک دیا اور حقارت سے بولا، "جناب! مکہ مدینہ کسی گنہگار کو نظر نہیں آتا۔" وزیر تڑپ کر رہ گیا، غصے سے بولا، "ہم گنہگار نہیں! ایک طرف ہو!" وہ بیٹھ گیا، مگر ظاہر ہے کچھ نظر نہ آیا۔ اب وہ سوچنے لگا کہ اگر سچ بتا دیا تو رسوائی ہوگی۔ اچانک زور سے چلایا، "سبحان اللہ! ما شاء اللہ! الحمدللہ! کیا روحانی منظر ہے مکہ مدینہ کا!" بادشاہ بے چین ہوگیا۔ "ہٹو! ہمیں بھی دیکھنے دو!" اور خود گدھے پر بیٹھ گیا۔ لیکن اسے بھی کچھ دکھائی نہ دیا۔ مگر بادشاہ ہونے کا پردہ رکھنا ضروری تھا۔ وہ آنکھوں میں آنسو بھر کر بولا، "واہ میرے مولا! کیا کرامت ہے! میرا وزیر تو صرف مکہ مدینہ تک پہنچا، مجھے تو ساتھ ساتھ جنت بھی دکھائی دے رہی ہے!" بادشاہ کے اُترتے ہی عوام ٹوٹ پڑی، کوئی گدھے کو چھونے لگا، کوئی چومنے لگا، کوئی اس کے بال کاٹ کر تبرک کے طور پر رکھنے لگا۔ کبھی کبھی کچھ لوگ ایسے ہی ہمیں سبز باغ دکھاتے ہیں کبھی آپ کے ساتھ ایسا ہوا ہے؟ 🤭🫣



