کہتے ہیں کہ پہلے زمانہ میں شیطان آدمیوں کو نظر آجاتا تھا، ایک صاحب نے اس سے کہا کہ کوئی ترکیب ایسی بتا کہ میں بھی تجھ جیسا ہو جاؤں۔ شیطان نے کہا کہ ایسی فرمائش تو آج تک مجھ سے کسی نے بھی نہیں کی،
تجھے اس کی کیا ضرورت پیش آئی ؟ انہوں نے کہا: میرا دل چاہتا ہے۔ شیطان نے کہا: اس کی ترکیب یہ ہے نماز میں سستی کر اور قسم کھانے میں ذرا پرواہ نہ کر جھوٹی سچی ہر طرح کی قسمیں کھایا کر ۔ ان صاحب نے کہا کہ میں اللہ سے عہد کرتا ہوں کہ کبھی نماز نہ چھوڑوں گا اور کبھی قسم نہ کھاؤں گا۔ شیطان نے کہا کہ تیرے سوا مجھ سے چال کے ساتھ کسی نے کچھ نہیں لیا، میں نے بھی عہد کر لیا کہ آدمی کو کبھی نصیحت نہیں کروں گا۔(فضائلِ اعمال)