ابھی ایک گیت چلا ہے "تجھ میں رب دکھتا ہے یا را میں کیا کروں...
Ummah Post
16 October, 2026

ابھی ایک گیت چلا ہے "تجھ میں رب دکھتا ہے یا را میں کیا کروں سجدے سر جھکتا ہے یارا میں کیا کروں" اس کو گانا اور سننا کیسا ہے؟ کیا اس سے کفر لازم آئیگا وغیرہ ۔

اس سوال کا جواب دیتے ہوئے حضرت اقدس مولانا مفتی احمد صاحب خانپوری رقم طراز ہیں کہ اس میں تفصیل یہ ہے کہ اگر گانے والا یہ جانتا ہے کہ یہ کفریہ عمل ہے ، اس کے باوجود اسے گا رہا ہے چاہے لہو ولعب یا مزاح کے طور پر گا رہا ہو یا واقعی طور پر گا رہا ہو دونوں صورتوں میں وہ ایمان سے نکل جاتا ہے، اور اگر جبر و اکراہ کی وجہ سے یا بطور خطا گا رہا ہے تو ایمان سے نہیں نکلے گا اور اگر اپنی جہالت کی وجہ سے اس کو یہ معلوم نہیں ہے کہ یہ کفریہ عمل ہے اور اختیاری طور پر گا رہا ہے تو اس کے کافر ہونے میں اختلاف ہے ۔

مالا بدمنہ میں ہے: اگر کوئی جاہل کلمہ کفر بولے اور وہ نہیں جانتا کہ کلمہ کفر ہے تو بعض علماء فرماتے ہیں کہ وہ کافر نہیں ہوگا اور جہالت عذر ہے اور بعض علماء فرماتے ہیں کہ کافر ہو جائے گا جہالت عذر نہیں۔

اس لئے جن صورتوں میں سب کے کہنے کے مطابق کافر ہو جاتا ہے اور اسکے کفر میں اختلاف نہیں ان تمام صورتوں میں اس کے سارے اعمال باطل ہو جاتے ہیں ، نکاح بھی ٹوٹ جاتا ہے ، اس کے لئے ضروری ہے کہ توبہ کرے دوبارہ کلمہ پڑھ کر ایمان میں داخل ہو اور نکاح بھی از سر نو پڑھے، اور جن صورتوں میں اس کے کفر میں اختلاف ہے ان صورتوں میں اس کو چاہئے کہ توبہ و استغفار کر کے تجدید نکاح کرلے ۔ ان ما يكون كفر اتفاقا يبطل العمل والنكاح وما فيه خلاف يؤمر بالاستغفار والتوبة وتجديد النكاح

(شامی، جلد 3، صفحہ 316) (محمود الفتاوی، جلد 4، صفحہ 85-86، کتاب الایمان و العقائد)

------------ Islamic Tube Pro ------------

کتاب: اپنے ایمان و اعمال کی حفاظت کیجیے ،

صفحہ نمبر : ۷۶ - ۷۷،

مصنف : مفتی امتیاز بن اسماعیل چارولیا راجکوٹی،

انتخاب : اِسلامک ٹیوب پرو ایپ ۔

Share this article
انسان کی گزرتی زندگی.....!( رولا دینے والی کہانی)
مضامین

انسان کی گزرتی زندگی.....!( رولا دینے والی کہانی)

بہت عرصہ پہلے ایک جگہ سیب کا ایک بہت بڑا درخت تھا ور روزانہ ایک بچہ وہاں آکر اُس درخت کے اِرد گِرد کھیلا کرتا تھا، وہ بچہ اس درخت کی ٹہنیوں سے چمٹ چمٹ کر اس کی چوٹی پر چڑھتا اس کے سیب کھاتا اور تھک کر اس کے سائے کے نیچے لیٹ کر مزے سے اونگھتا، وہ بچہ اس درخت سے محبت کرتا تھا اوروہ درخت بھی اس سے محبت...