مشہور تابعی حضرت سعید بن مسیب کی لڑکی کی شادی کا واقعہ نہایت...
Ummah Post
27 October, 2026

مشہور تابعی حضرت سعید بن مسیب کی لڑکی کی شادی کا واقعہ نہایت سبق آموز اور اسلامی تاریخ میں ایثار ، ہمدردی ، غربت ، پسندی اور سادگی کی شاندار مثال ہے ، ان کی لڑکی انتہائی حسین و جمیل اور تعلیم یافتہ تھی ، خلیفہ عبد الملک اس کو اپنی بہو بنانا چاہتا تھا ، اس نے اپنے ولی عہد کے ساتھ اس کی نسبت کا پیغام بھیجا ، ابن مسیب نے انکار کر دیا ، خلیفہ نے بہت دباؤ ڈالا اور مختلف قسم کی سختیاں کیں لیکن ابن مسیب اپنے انکار پر برابر قائم رہے ، اور چند دنوں کے بعد قریش کے ایک نہایت معمولی آدمی ابو وداعہ کے ساتھ اس کی شادی کر دی جو ان کے ایک ادنی شاگرد تھے۔

اس واقعہ کے بارے میں خود ابو وداعہ کا بیان ہے کہ میں سعید بن مسیب کے پاس پابندی سے جا کر بیٹھا کرتا تھا، ایک مرتبہ چند دنوں کی غیر حاضری کے بعد جانے کا اتفاق ہوا، ابن مسیب نے پوچھا: اتنے دنوں تک کہاں غائب رہے ؟

میں نے کہا : میری بیوی کا انتقال ہو گیا تھا اس لئے حاضر نہ ہو سکا فرمایا: مجھے خبر کیوں نہیں دی، میں بھی تجہیز و تکفین میں شریک ہوتا تھوڑی دیر بعد میں جب اٹھ کر جانے لگا تو انہوں نے کہا:

کیا تم نے دوسری شادی کا انتظام کیا ؟

میں غریب نادر دو چار پیسے کا آدمی ہوں، میرے ساتھ کون شادی کرے گی؟ فرمایا: میں انتظام کروں گا ، تم تیار ہو ؟

میں نے کہا: جی ضرور!

سعید بن مسیب نے اسی وقت دو تین درہم پر میرے ساتھ اپنی بیٹی کا نکاح پڑھوا دیا، جب میں وہاں سے اٹھا تو فرط مسرت سے میری یہ سمجھ میں نہ آتا تھا کہ کیا کروں؟ گھر پہنچ کر رخصتی کے لئے فکر میں پڑ گیا، شام کے وقت سعید ابن مسیب نے اپنی لڑکی کو اپنے ساتھ چلنے کا حکم دیا ، پہلے دو رکعت نماز ادا کی اور دو رکعت اپنی لڑکی سے پڑھوائی اس کے بعد اس کو لئے ہوئے میرے گھر پہنچے ، میں مغرب کے بعد روزہ افطار کرنے جا رہا تھا کہ کسی نے دروازہ کھٹکھٹایا، میں نے پوچھا کون ؟ جواب ملا سعید ! میں نے سوچا سعید بن مسیب تو اپنے گھر اور مسجد کے علاوہ کہیں آتے جاتے نہیں ، یہ سعید کون ہیں؟ اٹھ کر دروازہ کھولا تو دیکھا تو سعید ابن مسیب تھے۔ انھیں دیکھ کر میں نے کہا: آپ نے کیوں زحمت گوارا کی؟ مجھے بلا بھیجا ہوتا فرمایا: نہیں مجھے تمہارے پاس آنا چاہئے تھا۔۔۔۔ پھر فرمایا: تم تنہا آدمی تھے اور تمہاری بیوی موجود تھی ، میں نے خیال کیا کہ تنہا رات کیوں بسر کرو ، اسی لئے تمہاری بیوی کو لیکر آیا ہوں

وہ ان کے پیچھے کھڑی ہوئی تھی ، انھوں نے اسے دروازے کے اندر کر کے باہر سے دروازہ بند کر دیا ، میری بیوی شرم سے گر پڑی ، میں نے اندر سے دروازہ بند کر لیا ، اس کے بعد چھت پر چڑھ کر پڑوسیوں میں اعلان کر دیا کہ آج سعید ابن مسیب نے اپنی لڑکی کا عقد میرے ساتھ کر دیا اور اسے میرے گھر پہنچا گئے ہیں، میری ماں نے دستور کے مطابق تین دن تک اس کو بنایاسنوارا ، بننے سنورنے کے بعد میں نے اس کو دیکھا تو وہ نہایت حسین ، کتاب اللہ کی حافظہ ، سنت رسول کی عالمہ اور حقوق شوہر کی واقف کار عورت تھی۔

حوالہ : ابن خلکان جلد اول ص 207

اس واقعے سے درج ذیل چند سبق ملتے ہیں :

1۔ ایک پڑھی لکھی حسین و جمیل لڑکی جو ایک جلیل القدر محدث تابعی کی پروردہ بچی تھی۔

2۔ شہر میں اس کے علم، حسن و جمال اور سیرت و کرادر کے چرچے تھے اسے اچھے سے اچھا رشتہ مل سکتا تھا۔

3۔ لیکن لڑکی کے باپ نے لڑکی کو ایسی تعلیم دی تھی کہ حکومتِ وقت کے ولی عہد کی ملکہ بننے کے بجائے اس نے ایک غریب طالب علم کی بیوی بننے کو ہنسی خوشی منظور کیا اور دنیا پر آخرت کو ترجیح دینے کی یہ شاندار مثال پیش کی جو ایک مسلمان لڑکی کے لئے تاریخ میں ہمشہ سنہرے لفظوں میں لکھی جاتی رہے گی۔

4. باپ نے بچی سے پوچھے بغیر رشتہ طے کر لیا تھا اور بچی نے باپ کے فیصلے کو سنتے ہی سر تسلیم خم کر دیا اور اپنے علم و عمل اور باپ کی علمی حیثیت اور خاندان کی عزت کو چار چاند لگا دیے ، دنیا ایسی مثالی خاتون کو ہمیشہ محبت ، عقیدت ، عزت واحترام سے یاد کرتی رہے گی اور اسلامی تاریخ ایسی لڑکیوں پر ہمیشہ فخر کرتی رہے گی۔

Share this article
بے مثال سادگی اور تواضع
مضامین

بے مثال سادگی اور تواضع

حضرت مولنا سید اصغر حسین رحمہ اللہ تعالی ( جو اپنے ملنے والوں میں حضرت میاں صاحب کے نام سے مشہور تھے ) دار العلوم دیوبند کے اساتذہ کرام میں سے تھے جو شہرت اور نام و نمود سے ہمیشہ کوسوں دور رہے، زندگی بھر اسلامی علوم کی تدریس کی خدمت انجام دی، اور ہزارہا طلباء کو اپنے علم سے سیراب کیا، آج برصغیر پاک...