حضرت عبداللہ بن مسعود رضي اللہ تعالٰی عنه فرماتے ہیں:
"جب تم اپنے (بھائیوں) میں سے کسی کو کسی گناہ میں مبتلا دیکھو تو اس کے خلاف اللہ سے بددعا نہ کرو اور نہ اسے برا بھلا کہو، بلکہ اللہ سے دعا کرو کہ وہ اسے عافیت عطا فرمائے۔"
(التوبة لابن أبي الدنیا: ص ٩٩)
ایک شرابی صحابی پر کسی نے لعنت کی تو نبی ﷺ نے فرمایا: "اس پر لعنت نہ کرو، اللہ کی قسم! میں جانتا ہوں کہ یہ اللہ اور اس کے رسول سے محبت رکھتا ہے۔"
(صحیح البخاري: ٦٧٨٠)
اور فرمایا اپنے بھائی کے خلاف شیطان کی مدد نہ کرو۔"
(صحیح البخاري: ٦٧٨١)
حضرت عبداللہ بن مسعود رضي اللہ تعالٰی عنه سے روایت ہے کہ نبی ﷺ نے فرمایا:
"مومن نہ طعنہ دینے والا ہوتا ہے اور نہ لعنت کرنے والا۔"
(سنن الترمذي: ١٩٧٧)
گناہ سے نفرت کرنی چاہیے، گناہ گار سے نہیں۔ مومن اپنے بھائی کی رسوائی نہیں چاہتا بلکہ اس کی ہدایت کا طلب گار ہوتا ہے، کیونکہ بددعا اور طعن سے دل سخت ہوتے ہیں اور دعا سے اصلاح کے دروازے کھلتے ہیں۔